’ ملکی مفادات کو نقصان پہنچا تو ذمہ دار دھرنے والے‘

Image caption پیر کو امریکی وزیر دفاع نے پاکستان کی سرزمین پر حقانی نیٹ ورک سمیت دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے مطابق ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات میں نیٹو سپلائی کی بندش جاری رہنے کی صورت میں امریکی امداد روکنے کی بات کی ہے۔

وزیر اطلاعات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے قومی مفادات کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کے ذمہ دار سڑکوں پر دھرنے دینے والے اور ملک کے بین الاقوامی قانونی معاہدوں کی راہ میں رخنہ ڈالنے والے افراد ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی محکمۂ دفاع کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ وزیر دفاع چک ہیگل کے دورہ پاکستان کے دوران انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کو خبردار کیا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بندش کی صورت میں پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکی امداد روکنے سے متعلق اطلاعات کو مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی نمایاں جگہ دی ہے۔

پیر کو امریکی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ سنہ دو ہزار دو سے اخراجات اور سکیورٹی تعاون کی مدد میں امریکہ پاکستان کو سولہ ارب ڈالر فراہم کر چکا ہے۔

امریکی امداد روکے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے مطابق’ پاکستان میں جو ایسا فعل کیا جا رہا ہے جس سے ملک کے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اور مشکلات میں گھیرے پاکستان کی دنیا میں مدد کرنے والے تمام دوست ممالک کے ساتھ تعلقات میں کوئی رخنہ آئے گا تو اس کے ذمہ دار سڑکوں پر دھرنا دینے والے لوگ ہوں گے۔‘

خیبر پختونخوا سے نیٹو سپلائی بحال کرنے کے حوالے سے وفاقی حکومت کے اقدامات کے بارے میں سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ ’تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کو نیٹو ممالک نے گذشتہ دنوں کھانے پر دعوت دی تھی اور یہ وہاں چلے بھی گئے تھے اور مجھے یقین ہے کہ یہ ڈنر ڈرون کو ڈارلنگ میں تبدیل کر چکا ہو گا۔‘

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں امریکی ڈرون حملے کے بعد احتجاجاً صوبے سے نیٹو سپلائی افغانستان جانے سے روکنے کے لیے دھرنے دے رہی ہے جبکہ امریکہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر افغانستان سے پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی کی ترسیل روک دی ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے راستے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو سپلائی جاری ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے تحریک طالبان پاکستان سے بات چیت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ’ کوشش ہے کہ جو معاملہ کھٹائی میں پڑا ہے اسے دوبارہ پٹٹری پر ڈالا جائے۔‘

اسی بارے میں