چیف جسٹس کا آخری دن: تند و تلخ جملوں کاتبادلہ

Image caption عدالت نے توہین عدالت کے مقدمے کو بلوچستان بدامنی کے مقدمے سے الگ کر دیا

پاکستان کی سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے آخری عدالتی احکامات میں وفاقی حکومت کو فرنٹیئر کور کے قائم مقام سربراہ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کے علاوہ آئندہ سماعت پر لاپتہ ہونے والے افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ اس فورس کے سربراہ کو عدالتی احترام کے بارے میں بھی بتایا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو بلوچستان بد امنی کے مقدمے اور آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کے نوٹس کی سماعت کی تو ایف سی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل بریگیڈیئر خالد سلیم عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے اُن سے استفسار کیا کہ وہ کون ہیں جس پر اُنھوں نے اپنا تعارف کروایا اور کہا کہ وہ اس وقت ایف سی کے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

اس پر بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے اُنھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’فورس کے آدمی کو یونیفارم میں آنا چاہیے تھا‘ اور اُن کے رویے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنھیں عدلیہ کا کوئی احترام نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے بریگیڈیئر خالد سلیم سے استفسار کیا کہ کیا اُن کے پاس اپنی بطور قائم مقام سربراہ تعیناتی کا نوٹیفکیشن موجود ہے جس کی اُنھوں نے نفی کی اس پر عدالت نے اُنھیں سُننے سے انکار کر دیا۔

انھوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ عدالت نے ایف سی کے قائم مقام سربراہ کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا اس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایف سی کے قائم مقام سربراہ کا نوٹیفکیشن قانون کے مطابق جاری نہیں کیا گیا۔

اس موقع پر آئی جی ایف سی کے وکیل عرفان قادر نے کہا کہ اُن کے موکل کو کس آئین کے تحت سُنا نہیں جا رہا اور عدالت قانون کی بات کرنے کی بجائے ذاتیات پر اُتر آئی ہے۔ اس کے بعد بینچ اور عرفان قادر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

Image caption افتخار محمد چوہدری کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس بدھ کو سپریم کورٹ میں منعقد ہو رہا ہے

اس دوران بریگیڈیئر خالد سلیم نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ افراد اُن کی تحویل میں نہیں ہیں، تاہم عدالتی حکم پر ان افراد کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے ایف سی کے سربراہ کو توہین عدالت کے مقدمے کو بلوچستان بدامنی کے مقدمے سے الگ کر دیا ہے اور ان مقدمات کی سماعت اب 19 دسمبر کو ہوگی۔

خیال رہے کہ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس بدھ ہی کو سپریم کورٹ میں منعقد ہو رہا ہے۔

بینچ اور عرفان قادر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

سماعت کے دوران عدالت نے ایف سی کے قائم مقام سربراہ کے لباس پر تنقید کی اور کہا کہ چونکہ اُن کا تعلق سکیورٹی سے ہے اس لیے اُنھیں یونیفارم پہن کر آنا چاہیے تھا۔ اس موقع پر میجر جنرل اعجاز شاہد کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر روسٹم پر آئے اور کہا کہ عدالت ذاتیات پر آنے کے بجائے قانون کے مطابق اس مقدمے کی کارروائی کو آگے چلائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈسپلن کی پابندی کروانا بھی ضروری ہے اس لیے عدالتی آداب کو بھی سامنے رکھا جائے۔

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ وہ اپنے موکل کو بینچ کے ایسے سربراہ کے سامنے پیش نہیں کرنا چاہتے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی چیف جسٹس ہیں۔

بینچ میں موجود جواد ایس خواجہ نے عرفان قادر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہے ہیں اور عدالت اُن کی وکالت کا لائسنس منسوخ بھی کرسکتی ہے۔ اس موقعے پر اٹارنی جنرل منیر اے ملک روسٹم پر آئے اور کہا کہ عدالت کو اس ضمن میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ عرفان قادر اٹارنی جنرل بھی رہے ہیں۔

یاد رہے کہ عرفان قادر نے تین نومبر 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کےدوسرے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے جج کی حیثیت سے حلف اُٹھایا تھا تاہم اس اقدام کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اُنھیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں