ترقی کے بعد تنزلی، اعلیٰ افسروں کی کام میں دلچسپی ختم

Image caption پروموشن بورڈز میں ترقی نہ پانے والے ایک افسر نے ترقی دینے کے عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا

پاکستان میں جہاں آج کل ایک بار پھر بیوروکریسی میں من پسند لوگوں کو نوازنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، وہیں اسی بیوروکریسی میں گریڈ 20 کے ایسے 78 افسران بھی پائے جاتے ہیں جن سے گریڈ 21 میں ملنے والی ترقی واپس لے لی گئی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ان کی اکثریت کام کرنے کے بجائے سارا دن اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کے خلاف منصوبہ بندی کرنے میں صرف کرتی ہے۔

ان افسروں کو نہ صرف گریڈ 21 سے 20 میں واپس بھیج دیا گیا ہے بلکہ ان کے جونیئر اور ماتحت ترقی پا کر ان کے افسر بن گئے ہیں۔

ملک میں بیوروکریسی میں تقرریوں اور تبادلوں کے عمل کا جائزہ لینے کی ایک کوشش کے دوران ان اعلیٰ افسروں میں سے چند سے ملاقات کا موقع ملا، جن کا کہنا ہے کہ ترقی کے بعد تنزلی کے اس عمل نے انھیں معاشرے میں تمسخر کا نشانہ بنا دیا ہے۔

ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: ’باضابطہ طور پر پروموشن بورڈ سے ترقیاں ملنے کے بعد ہم نے سات ماہ تک اگلے گریڈ میں کام بھی کیا، لیکن اچانک ایک عدالتی حکم پر ہماری تنزلی کر کے ہمیں واپس پرانے گریڈ 20 میں بھیج دیا گیا، یہاں تک کہ حکومت نے ہمیں ترقی دینے کے عمل کا عدالت میں دفاع تک نہیں کیا اور سزا ہمیں بھگتنا پڑی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ کیا اس کے بعد بھی ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اپنے افسران بن جانے والے ماتحتوں کے زیرِ سایہ دل لگا کر اسی جذبے سے کام کریں جیسا ہم گذشتہ پچیس تیس سالہ سروس میں کرتے رہے ہیں؟‘

ان افسروں میں سے زیادہ تر اب بھی مختلف اہم وزارتوں اور کارپوریشنوں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں جن میں سب کے پاس اپنی سابقہ ترقی کی فائلیں، ٹوٹے ہوئے دل اور ان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکووں کی بھرمار ہے۔

ان میں سے کئی نے بتایا کہ ترقی دینے کے اس عمل کے لیے رواں سال کے شروع میں پروموشن بورڈز کے دو اجلاس ہوئے تھے۔ ان جلاسوں میں بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر ترقی نہ پانے والے ایک افسر نے اس عمل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جہاں سے ان افسروں کی ترقی کے سارے عمل کو ریورس کر دیا گیا۔

ان پروموشن بورڈز میں صرف ان 78 کو نہیں بلکہ مجموعی طورپر 400 افسروں کو ترقی دی گئی تھی، لیکن عدالت نے صرف متاثرہ شخص کے کیڈر یعنی ڈی ایم جی کے لیے پروموشن بورڈ کے فیصلوں کو انصاف کے خلاف قرار دے کر باقی 320 کی ترقیوں کو جائز قرار دیا جو اگلے گریڈوں میں ترقی کرکے ان 78 سے آگے چلے گئے۔

سپریم کورٹ سے ان افسروں کے خلاف اس حکم اور اس کے نتیجے میں ان کی تنزلی کے بارے میں ان امورکو سمجھنے والے سپریم کورٹ کے وکیل نورعالم ایڈوکیٹ سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا یہ کیس سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ مفادِ عامہ کے کسی بھی معاملے کوخود سن سکتی ہے البتہ یہ معاملہ اگرچند افراد کے بیچ ہوتاتو وہ ایسانہ کرتی لیکن چونکہ اتنی بڑی تعداد میں ترقیوں کا اثرسب لوگوں پر پڑ رہا تھا اس لیے سپریم کورٹ نے یہ قدم اٹھایا۔

پاکستان میں مقابلے کے امتحانات میں سب سے اعلیٰ کیڈر ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی ) میں منتخب ہونے والے ان 78 افسروں نے پروموشن بورڈ سے ترقیاں ملنے کے بعد سات ماہ تک گریڈ 21 میں ایڈیشنل سیکرٹریز کے طورپرکام بھی کیا تاہم تنزلی کے بعد گریڈ 20 میں اب ان میں زیادہ تر جوئنٹ سیکرٹریز کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

پاکستان کے ریاستی نظام میں وزارتی امور چلانے میں ایڈیشنل سیکرٹری متعلقہ شعبے کے سیکرٹری اور وزیر کی معاونت کرتے ہیں جو اس نظام میں تیسرے اہم ترین شخص ہوتے ہیں۔

اس کیس سے متعلق معروف قانون دان بیرسٹرمدثر نقوی سے جب رائے مانگی گئی توان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے یہ کہہ دیا تھا کہ حکومت اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے کسی اور کو کوئی نقصان ہو نہ ہو، ترقی پا کر واپس پچھلے گریڈ میں جانے والوں کوضرور اذیت برداشت کرنی پڑی ہے جن کے ساتھ ہونے والے اس عمل کے مداوے کے امکانات بہت کم ہیں۔ ا

انھوں نے کہا کہ ان سب کو شاید اپنی ریٹائرمنٹ تک اس اذیت سے گزرنا پڑے کیونکہ اگر یہ نظرثانی کی درخواست بھی دائر کرتے ہیں تو اس میں بھی مداوے کے امکانات اتنے روشن نظر نہیں آتے۔

اسی بارے میں