جان کا خطرہ: ڈاکٹر آفریدی کے وکیل ملک چھوڑ گئے

Image caption ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرف سے وکلاء کا تین رکنی پینل ان کو قانونی معاونت فراہم کر رہا ہے

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے وکیل سمیع اللہ آفریدی شدت پسندوں کی دھمکیوں کی وجہ سے ملک چھوڑ گئے ہیں۔

ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس میں ایک اور معاون وکیل قمر ندیم آفریدی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ سمیع اللہ آفریدی ایڈووکیٹ کو کچھ عرصے سے شدت پسندوں کی طرف سے ٹیلی فون پر دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے انھوں نے چند دنوں سے اپنی نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔

’شکیل آفریدی کی جان کو خطرہ ہے‘

انھوں نے کہا کہ سمیع اللہ آفریدی کے خاندان کے کچھ افراد کو بھی شدت پسندوں کی ٹیلی فون کالز موصول ہوئی تھیں جس میں انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ سمیع اللہ آفریدی کیس سے الگ ہو جائیں ورنہ ان کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔

قمر ندیم کا کہنا تھا کہ ان دھمکیوں کے بعد سمیع اللہ آفریدی نے بیرونی ملک جانے کے لیے کوشش تیز کردی تھی۔

انھوں نے کہا کہ سمیع اللہ آفریدی دو دن پہلے دبئی پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے ہاں مقیم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سمیع اللہ آفریدی کو کس تنظیم کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قمر ندیم نے کہا کہ ملزم کی طرف سے سزا کے خلاف دائر کی گئی ایپل میں عدالت کا فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے جو آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

یاد رہے کہ ملزم ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرف سے وکلاء کا تین رکنی پینل ان کو قانونی معاونت فراہم کر رہا ہے جن میں سمیع اللہ آفریدی کے جانے کے بعد اب دو وکلا رہ گئے ہیں ان میں قمر ندیم اور عبدالطیف آفریدی ایڈووکیٹ شامل ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر ایجنسی کی انتظامیہ نےگذشتہ سال مئی میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شدت پسندوں کی معاونت کرنے اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف سازباز کرنے کے الزام میں ایف سی آر کے قانون کے تحت 33 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

ملزم پر یہ الزام بھی ہے کہ انھوں نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مبینہ طور پر معاونت فراہم کی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے فوکس ٹی وی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ سی آئی اے بن لادن کو نشانہ بنائے گی اور نہ ہی انھیں یہ معلوم تھا کہ ان کے کام کی وجہ سے کسی مخصوص شخص کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں