لاپتہ افراد: کراچی سے اسلام آباد تک کے مارچ کا آغاز

Image caption قافلے میں موجود افراد نے دس کلومیٹر کا سفر طے کرکے کراچی کے علاقے بلوچ کالونی کے پاس مختصر قیام کیا اور پھر سرِشام قافلہ پھر روانہ ہوگیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ کیے جانے والے بلوچ نوجوانوں کی رہائی کے لیے سرگرم تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے تحت بلوچستان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے۔

جمعہ کے روز تنظیم کے رہنما ماما قدیر کی سربراہی میں سو سے زیادہ بلوچ نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین پر مشتمل قافلہ کراچی پریس کلب سے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا۔

قافلے میں موجود افراد نے دس کلومیٹر کا سفر طے کرکے کراچی کے علاقے بلوچ کالونی کے پاس مختصر قیام کیا اور پھر سرِشام قافلہ پھر روانہ ہوگیا۔

راستے میں خواتین اور نوجوان اپنے پیاروں کی رہائی کے نعرے لگاتے رہے۔ چند نوجوان اپنے اُن ساتھیوں کے خون کو رائگاں نہ جانے دینے کے عزم کا اعادہ کرتے رہے جن کی لاشیں لاپتہ ہونے کے بعد مسخ شدہ حالت میں ملی تھیں۔

قافلے کی سربراہ ماما قدیر نے کہا ’اسلام آباد پہنچ کر اقوام متحدہ کے دفتر میں یادداشت پیش کریں گے کہ وہ بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے اور اُن کی مسخ شدہ لاشیں پھنکی جا رہی ہیں تو اقوام متحدہ کیوں خاموش ہے۔ آج کے اعداد و شمار کے مطابق اٹھارہ ہزار دو سو چھتیس افراد کو لاپتہ کیا جا چکا ہے۔‘

اسی قافلے میں بلوچ خواتین کے روایتی و ثقافتی لباس میں ملبوس منہ کو چادر سے چھپائے لیکن بلند آواز میں نعروں کا جواب دیتی فرزانہ بلوچ بھی موجود تھیں جو خواتین کی رہنما ہیں اور خود اُن کے بھائی کو لاپتہ ہوئے اب چار برس ہو چکے ہیں۔

فرزانہ مجید نے کہا ’ہم انسانی حقوق کے اداروں کے پاس بھی گئے۔ ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ بھی گئے لیکن ہم کو انصاف نہیں مل رہا۔ ہم نے ہر دن اپنے مظاہروں کے دوران اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی کہ وہ ہمارے بھائی کی بازیابی کے لیے ریاستِ پاکستان پر دباؤ ڈالے۔ لیکن وہ بھی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟‘

کراچی کی اہم اور طویل ترین مرکزی سڑک شاہراہ فیصل پر چلنے والی گاڑیوں اور موٹر سائکلوں کے برابر پیدل سفر کرتے ہوئے اِس قافلے کے ساتھ ایک ایمبولینس، تین پولیس کی گاڑیاں اور دو رینجرز کی گاڑیاں چل رہی تھیں۔ لیکن پھر بھی قافلے کے شرکاء اپنی حفاظت سے مطمئن نہیں تھے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بی بی سی کے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسلام آباد جانے والے قافلے میں موجود اُن بچوں کے لیے فکر مند ہیں جن کے بڑوں کو لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا اُن لوگوں کو مسلسل دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔

قافلے کے شرکاء کا اندازہ ہے اسلام آباد پہنچنے میں اُنہیں تقریباً دو ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور راستے میں موسم کی خرابی شاید اِس دورانیے کو مزید بڑھا دے۔

واضح رہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اِس مقدمے میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے خاصی دلچسپی لی تھی اور اپنی ملازمت کے آخری دن بھی اسی مقدمے کی سماعت کر رہے تھے۔

اسی بارے میں