’کراچی آپریشن کے دوران ساڑھے 12 ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا‘

Image caption پاکستان کی وفاقی حکومت نے رواں برس چار ستمبر کو کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ سندھ رینجرز اور پولیس نے کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کے دوران اب تک 12,543 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

یہ بات وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمان نے وقفۂ سوالات کے دوران جمعے کو قومی اسمبلی کو بتائی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیرِ مملکت نے ایوان کو بتایا کہ پچھلے تین ماہ کے دوران کراچی پولیس نے مختلف علاقوں میں 8,230 چھاپے مارے اور مختلف مقابلوں میں 83 جرائم پیشہ افراد کو ہلاک کیا۔

بلیغ الرحمان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور منشیات بھی برآمد کی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران جرائم کی شرح کافی حد تک کم ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ کراچی میں تمام غیرتصدیق شدہ سمیں بند کر دی گئی ہیں اور موبائل فون کمپنیوں نے نئی سموں کے اجرا کے لیے تصدیق کا بائیومیٹرک نظام متعارف کروایا ہے۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے رواں برس چار ستمبر کو کراچی میں رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وفاقی سول اور ملٹری انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس سینکڑوں شرپسند عناصر کے نام ہیں جن کے خلاف رینجرز کی سربراہی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہو گا۔‘

اسی بارے میں