پاکستان میں پندرہ سال بعد مردم شماری کرانے کا فیصلہ

پاکستان
Image caption پاکستان میں آخری مرتبہ مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک میں آئندہ سال مردم شماری کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تاکہ آئندہ عام انتخابات نئےمردم شماری کے تحت کرائے جاسکیں۔

پاکستان میں آخری مردم شماری پندرہ سال قبل ہوئی تھی۔

مردم شماری تک نئی حلقہ بندیاں بلاجواز: الیکشن کمشنر

مردم شماری:’طالبان کا تعاون‘

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مردم شماری سےمتعلق اداروں کو حکم دیا ہے کہ سنہ 2014 میں چاروں صوبوں میں مردم شماری کے لیے تیاریاں کی جائے تاکہ سال دو ہزار اٹھارہ میں ہونے والے عام انتخابات نئے مردم شماری کے تحت کرائے جاسکیں۔

وزیراعظم نے یہ احکامات انتخابی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انھیں لکھے جانے والے اس خط کے جواب میں جاری کیے ہیں جس میں انتخابی کمیشن نےوزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ آئندہ سال ملک میں مردم شماری کرانے کو یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر برائے تعلقات عامہ الطاف احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آئین کے مطابق ملک میں ہر چار سال بعد مردم شماری لازمی ہے تاکہ پانچ سال بعد ہونے والے عام انتخابات کا انعقاد نئی مردم شماری کے تحت ممکن بنایاجاسکے لیکن بدقسمتی سے ماضی کی کسی حکومت نے مردم شماری جیسے اہم مسئلے پرکوئی توجہ نہیں دی۔‘

الطاف احمد کے مطابق مردم شماری کے بعد نہ صرف الیکشن کمیشن کے لیے نئی حلقہ بندیاں کرانے میں آسانی ہوگی بلکہ آئندہ عام انتخابات کرانے میں بھی آسانی پیدا ہوجائےگی۔

جواضح رہے کہ گیارہ مئی 2013 کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل کئی سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے سابقہ حلقہ بندیوں پر شدید احتجاج کیا تھا۔

سیاسی جماعتوں کے بقول گذشتہ پندرہ سال میں ملک کی آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے اور حکومت کو نی حلقہ بندیاں کرکے انتخابات کا انعقاد کرانا چاہییے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں آخری بار سنہ 1998 میں مردم شماری ہوئی تھی جس کے تحت اس وقت پاکستان کی آبادی سترہ کروڑ افراد پر مشتمل تھی۔

اسی بارے میں