ووٹوں کی تصدیق تین ماہ کے لیے الیکشن کمیشن کے سپرد

Image caption چوہدری نثار نے کہا کہ انہوں نے ایک ہزار سرکاری پاسپورٹ منسوخ کیے ہیں جنہیں استعمال کر کے انسانی سمگلنگ تک ہوئی

پاکستان کی حکومت نے عام انتخابات میں ووٹوں کی تصدیق اور انگوٹھوں کے نشانات کی جانچ پڑتال کا کام نادرا کے دائرہ اختیار سے نکال کر الیکشن کمیشن کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزارت داخلہ تین ماہ کے لیے یہ کام الیکشن کمیشن کے سپرد کر رہی ہے تاکہ حقائق کی وضاحت ہو سکے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ فیصلہ گزشتہ رات وزیراعظم کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں تین مہینے کے لیے انگوٹھوں کی شناخت کے نظام سمیت تمام معاملات بھی الیکشن کمیشن کے حوالے کیے گئے ہیں۔

چوہدری نثار نے کہا کہ الیکشن کمیشن اس دوران ایف آئی اے کی خدمات بھی حاصل کر سکے گا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ ’جرم کی نشاندہی الیکشن کمیشن کرے گرفتاریوں کا حکم میں جاری کروں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ اب معاملہ نادرا، الیکشن کمیشن اور وزارتِ آئی ٹی کے ہاتھ میں ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ’میں نے دو ہزار سے زیادہ سرکاری پاسپورٹ منسوخ کیے جو تمام غیر قانونی طور پر دیے گئے تھے۔ سرکاری پاسپورٹس کا غلط استعمال کیا جا رہا تھا۔‘

وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ ’کئی ممالک جن کے ساتھ ہمارے باہمی معاہدے تھے انہوں نے اس وجہ سے معاہدے منسوخ کر دیے۔ کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ ہر ایرے غیرے کو بغیر اہلیت کے بغیر سکیورٹی چیک کے پاسپورٹ دیے جا رہے ہیں۔ لوگوں نے ان سرکاری پاسپورٹوں کو غلط طریقے سے استعمال کیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ان پاسپورٹوں کا استعمال کر کے انسانی سمگلنگ ہوئی، سمگلنگ ہوئی۔‘

چوہدری نثار نے کہا کہ ’یہ پاسپورٹ بہت اونچے درجوں پر فائز لوگوں کو دیے گئے تھے۔ اس میں میری جماعت کے لوگ بھی شامل تھے۔ اس میں وزیر اعظم کی مکمل رہنمائی اور تعاون شامل تھا۔‘

وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں قیام امن کے لیے تمام اقدامات کریں گے۔ انہوں نے امریکہ کو طالبان سے مذاکرات میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

چوہدری نثار علی خان نے ملک میں امن وامان کی صورتحال کی ذمہ داری پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت پرعائد کی اور کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئےکار لائےجائیں گے۔

اسی بارے میں