’عطیات پر چلنے والا بم ڈسپوزل یونٹ‘

Image caption خیبر پختونخوا میں پچھلے چند سالوں سے ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک ہی بم دھماکے میں بم ڈسپوزل یونٹ کے چار اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے سے سٹاف کی کمی اور دیگر مسائل کا پہلے سے شکار بم ناکارہ بنانے والے اس یونٹ کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔

خیبر پختونخوا میں پچھلے سات سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بم ڈسپوزل یونٹ یا بی ڈی یو کے اہلکار ہمیشہ سے فرنٹ لائن میں فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

دھماکے میں بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار ہلاک

قدم قدم پر موت کا سامنا کرنے والے اس یونٹ کے کل 50 کے قریب سینیئر تربیت یافتہ اہلکاروں میں اب تک 10 اہلکار بم ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے اس محکمے میں تربیت یافتہ افراد کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

ان بم حملوں کے خوف اور وسائل کی کمی کی وجہ سے اس اہم محکمے میں کوئی افسر یا اہلکار ڈیوٹی دینے کےلیے تیار نہیں۔

بم ڈسپوزل یونٹ خیبر پختونخوا کے سربراہ اے آئی جی شفقت ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کیا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ’بی ڈی یو‘ کا محکمہ نہ صرف مشکلات کا شکار ہے بلکہ ان مسائل کی وجہ سے اس کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کا محکمہ امریکہ اور مغربی ممالک کی عطیات پر چل رہا ہے، ہمارے اپنے کوئی وسائل نھیں اور جو تھوڑا بہت جدید سازوسامان ہے وہ بھی باہر کے ممالک کا دیا ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ محکمے کے دس تربیت یافتہ افراد فرائض کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں اور اس محکمے میں نوکری کرنے کے لیے مزید لوگ نہیں آ رہے ہیں۔

’اس وقت پورے صوبے میں بم ڈسپوزل یونٹ میں 70 آسامیاں خالی ہیں لیکن جس تیزی سے عہدے خالی ہو رہے ہیں اسی حساب سے پر نہیں ہو رہے۔‘

شفقت ملک کے مطابق بی ڈی یو کے اہلکاروں کا کوئی سروس سٹرکچر ہے اور نہ ہی بنیادی ڈھانچہ ہے جس کی وجہ سے تر اہلکار جس عہدے پر بھرتی ہوتے ہیں اسی پر ریٹائرڈ بھی ہو جاتے ہیں۔

’جب آپ کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہو اور زندگی بھی خطرے میں ہو تو ایسے میں کون ایسے محکمے میں نوکری کرے گا۔‘

خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ اور وزراء کے زیر استمعال بلٹ پروف اور جیمرزگاڑیاں ہیں لیکن فرنٹ لائن میں انھی وزراء اور عوام کی زندگی بچانے والے بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکاروں کے پاس نہ تو بلٹ پروف گاڑیاں ہیں اور نہ ہی جیمرز۔ ان اہلکاروں کی زندگی ایسی ہے جسے باردو کے ڈھیر پر گزر رہی ہو۔‘

شفقت ملک کے مطابق پوری دنیا میں یہاں تک غریب ممالک میں بھی بم یونٹ کے افراد فرائض کے دوران بلٹ پروف گاڑیاں اور جیمرز استممال کرتے ہیں تاکہ عملے کے اہلکار خطرے سے محفوظ رہیں لیکن یہاں ایسی کوئی سہولیات نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ سینیئر تربیت اہلکار بم ناکارہ بناتے وقت ہلاک ہو رہے ہیں۔

Image caption پیر کو بم دھماکے میں بم ڈسپوزل یونٹ کے سربراہ سمیت چار اہلکار ہلاک ہو گئے

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ای ڈی یا ریموٹ کنٹرول سے بم حملے کرنا شدت پسندوں کا ایک بڑا اہم اور سب سے موثر جنگی ہتھیار ہے جس کا صرف اس صورت میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے جب اپ کے پاس جدید سازوسامان اور اعلیٰ تربیت یافتہ سٹاف ہو۔‘

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا میں پچھلے چند سالوں کے دوران خودکش حملوں کے مقابلے میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ باردوی مواد نصب کر کے دھماکہ کرنا نہ صرف آسان ہے بلکہ اس میں وسائل بھی کم خرچ ہوتے ہیں جبکہ اس کے ذریعے سے شدت پسند اپنے اہداف بھی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں