کراچی: امام بارگاہ کے قریب دھماکہ، ایک عورت ہلاک

Image caption جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہ عام سڑک نہیں اور یہاں کئی بیریئر موجود ہیں جس کی وجہ سے غیر متعلقہ لوگ یہاں کم ہی آتے ہیں

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک امام بارگاہ کے قریبی علاقے میں ایک دھماکے میں ایک عورت ہلاک اور دو افراد زخمی ہوگئے۔

یہ دھماکہ بدھ کو خالد بن ولید روڈ پر واقع امام بارگاہ محفل مرتضیٰ کے نزدیک گلی میں صبح گیارہ بجے کے قریب ہوا۔

ایس ایس پی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ دو خواتین دھماکہ خیز مواد لے کر جا رہی تھیں کہ حادثاتی طور پر وہ پھٹ گیا جس میں ایک عورت ہلاک اور ایک زخمی ہوگئی۔

ایس ایس پی کے مطابق یہ خواتین بظاہر گھروں میں کام کرنے والی خواتین کی طرح دکھائی دیتی تھیں۔

چشم دید گواہوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ خواتین قریب ہی ایک رکشے سے اتریں اور دھماکے والی جگہ تک آئیں۔

’ خواتین کے ہاتھوں میں کوئی دھماکہ خیز مواد تھا جو پھٹ گیا، جس سے ایک 50 سالہ عورت کا بازو اڑ گیا اور دوسری کا نصف چہرا متاثر ہوا جس سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے یہ کوئی دستی بم یا ٹینس بال بم تھا۔‘

جس جگہ یہ دھماکہ ہوا وہ عام سڑک نہیں اور یہاں کئی بیریئر موجود ہیں جس کی وجہ سے غیر متعلقہ لوگ یہاں کم ہی آتے ہیں۔

دھماکے کے بعد چھروں کے نشانات آس پاس کی دیواروں اور گاڑیوں پر بھی موجود ہیں۔

دھماکے والی جگہ سے رینجرز اور پولیس نے ایک عورت کو حراست میں لیا ہے جس نے اپنا نام حسینہ بتایا ہے۔

حسینہ کا کہنا تھا کہ ان کی رشتے دار خواتین نسرین اور عذرہ گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔ ’میں نے جب دھماکے کے بارے میں سنا تو میں ان کے بارے میں معلومات لینے یہاں آئی۔ مقامی لوگوں کے دباؤ پر رینجرز نے خاتون کو تحویل میں لے لیا ہے۔‘

ادھر جناح ہپستال کے شعبے حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ایک عورت مردہ حالات میں لائی گئی ہے جبکہ ایک عورت اور مرد زخمی ہیں جن کی شناخت عذرہ اور اسماعیل کے نام سے کی گئی ہے۔ ان کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔

ایس پی سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ فاروق اعوان کا کہنا ہے کہ اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے کہ ان کا کوئی ٹارگٹ تھا یا وہ کسی ٹارگٹ پر جارہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی ہے کہ یہ تھیلا ان کے پاس کہاں سے آیا، دستی بم انہیں کسی نے دیا ہے یا انہوں نے راستے سے اٹھایا تھا۔

خیال رہے کہ منگل کی شام کو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے علاقے گریسی لین میں ایک امام بارگاہ کے قریب خودکش دھماکے میں چار افراد ہلاک اور کم از کم 10 زخمی تھے۔

رواں برس عاشورۂ محرم پر راولپنڈی میں ہی فرقہ وارانہ تشدد میں دس سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے شہر میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں