راولپنڈی: امام بارگاہ کے قریب خودکش دھماکہ، چار ہلاک

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کے علاقے گریسی لین میں ایک امام بارگاہ کے قریب خودکش دھماکے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی جبکہ کم از کم 10 زخمی ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ حملہ منگل کی شب ایئرپورٹ کے قریب گریسی لائن کے علاقے میں واقع امام بارگاہ اثنا عشری کے نزدیک ہوا۔

راولپنڈی کے سی پی او اختر لالیکا نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور نے حفاظتی چیک پوائنٹ پر روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

انھوں نے بتایا کہ خودکش دھماکے میں تھانہ ایئرپورٹ کے ایس ایچ او، ایک سب انسپکٹر سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تھانہ ایئرپورٹ کے ایس ایچ او خودکش دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے اور بعد میں ہسپتال میں ان کی موت واقع ہو گئی۔

طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والوں میں سے کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے۔دھماکے سے موقع پر کھڑی متعدد گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

سی پی او اختر لالیکا کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کی عمر تقریباً 20 سال کے قریب ہے اور اس کا سر سرجری کے لیے کھاریاں میں واقع فوجی چھاؤنی بھیج دیا گیا ہے۔

اس دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

تاحال کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ چہلمِ امام حسین سے قبل راولپنڈی میں سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

رواں برس عاشورۂ محرم پر راولپنڈی میں ہی فرقہ وارانہ تشدد میں دس سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے شہر میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں