’ملا کی پھانسی بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے‘

پاکستان کی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی کے خلاف قرارداد پر ڈھاکہ میں پاکستان مخالف مظاہرے کے بعد امورِ خارجہ کے لیے پاکستانی وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نےاسے بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی خاص کر ہمسایہ ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت اور غیر پسندیدہ اصولوں پر وضع کی گئی ہے۔

’بنگلہ دیش 71 کے معاملات کو زندہ نہ کرے‘

انھوں نے کہا کہ ملک کی پارلیمان عبدالقادر ملا کی پھانسی کے خلاف قرارداد کا حق رکھتی ہے لیکن خارجہ پالیسی کے تحت یہ بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔

پاکستان میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کی پھانسی پر حکمراں جماعت کے رہنماؤں اور دفتر خارجہ کا ردعمل بالکل مختلف ہے جس کی وجہ سے مقامی ذرائع ابلاغ پر ملک کی خارجہ پالیسی پر خاصی بحث ہو رہی ہے۔

اس وقت وزارتِ خارجہ کا قلمدان وزیراعظم نواز شریف کے پاس ہے اور خارجہ امور خارجہ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔

Image caption مظاہرین کی رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب جانے کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنا دیا

دو دن پہلے ہی پیر کو پاکستان کے ایوانِ زریں یعنی قومی اسمبلی میں بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقار ملا کو پھانسی دینے کے خلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی تھی اور اس قرارداد پر بنگلہ دیش نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈھاکہ میں پاکستانی ہائی کمشنر سے وضاحت طلب کی تھی۔

بنگلہ دیش میں عبدالقادر ملا کی پھانسی کے خلاف پاکستان کی قرارداد پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

بدھ کو بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں احتجاجی مظاہرین نے پاکستان کے ہائی کمیشن کی جانب جانے کی کوشش کی اور پولسی کی جانب سے روکے جانے پر پاکستان مخالف نعرے بازی کی گئی اور پاکستان کا قومی پرچم نذرِ آتش کیا گیا۔

بنگلہ دیش علیٰحدگی کے دوران سنہ 1971 کے واقعات میں پاکستانی فوج پر مبینہ زیادتیوں کا الزام لگایا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ پاکستان بنگلہ دیشی عوام سے معافی مانگے۔ تاہم اب تک پاکستان سرکاری سطح پر معافی مانگنے سے گریز کر رہا ہے

بنگلہ دیش میں 1971 میں جنگی جرائم میں ملوث پائے جانے والے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو جمعرات کو پھانسی دی گئی تھی اور اس سے ایک دن بعد پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ایک بیان میں پھانسی دینے کو انتہائی افسوسناک اور المناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ عبدالقادر ملا کو پھانسی 1971ء میں ان کی پاکستان سے وفاداری اور یکجہتی نبھانے کے باعث دی گئی۔

بدھ کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان خودمختار ہے اور کوئی بھی قرارداد منظور کرنے کا حق رکھتی ہے تاکہ ملک کے دفتر خارجہ کا موقف ہے کہ عبدالقادر ملا کو پھانسی دینا بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے۔

Image caption بنگلہ دیش میں پاکستان کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں

انھوں نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان کا برادر ملک ہے اور دونوں ممالک نے 1971 کے بعد طے کیا تھا کہ ماضی کو نہیں کریدا جائے گا۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے سینیٹ میں بھارت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری اولین ترجیع ہے لیکن وہاں انتخابات کی وجہ سے بات چیت کا موقع بہت کم ہے۔

مشیر خارجہ نے افغانستان سے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ افغانستان سے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور دورے میں وزیراعظم نے افغان صدر پر واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا اور وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان اپنے مسائل خود حل کرے۔

اسی بارے میں