اپوزیشن ناراض ہوگئی: وزیرِ داخلہ پر غصہ، اجلاس کا بائیکاٹ

Image caption ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں

پاکستان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں حزبِ مخالف کی جماعتوں نے بدھ کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بیان پر ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔

چوہدری نثار علی نے بدھ کو قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کے نقطۂ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سال مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں مقناطیسی سیاہی فراہم کرنا الیکشن کمیشن اور اُس وقت کی نگراں حکومت کی ذمہ داری تھی تاہم اس کا ملبا حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن پر ڈالا جا رہا ہے۔

ان کے اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا اور ان کا موقف ہے کہ جب تک وزیر داخلہ اپنے الفاظ واپس نہیں لیں گے اس وقت تک وہ ایوان کی کارروائی میں شریک نہیں ہوں گے۔ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں۔

چودہری نثار کا کہنا تھا ایک سیاسی جماعت نے انگھٹوں کی نشاندہی کے معاملے پر تماشا‘ لگا رکھا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حز بِ اختلاف سید خورشید شاہ نے نقطۂ اعتراض پر کہا کہ چیئرمین نادرا کی معطلی اور پھر اس ادارے کو الیکشن کمیشن کی زیرِ نگرانی دینے سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں مڈٹرم انتخابات کی بھی باتیں کی جا رہی ہیں۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ایوان کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے کہ کون ایسی سازشیں کر رہا ہے کیونکہ حزبِ مخالف کی جماعتیں ایسا نہیں چاہتیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے قائد حزبِ اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں یہ بات نہیں کی تھی جس پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محود قریشی کھڑے ہوگئے اور انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت ایسے الفاظ کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کرے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پورا ایوان قابلِ احترام ہے اور کسی کے بارے میں ایسی بات کرنا درست نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ تماشا وہ لوگ کر رہے ہیں جن کی ڈوریں دوسروں کے ہاتھوں میں ہیں جب کہ ان کی جماعت اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔

اس موقع پر چوہدری نثار علی خان ایک مرتبہ پھر کھڑے ہوئے اور کہا کہ انھوں نے یہ بات ایوان میں موجود جماعتوں کے لیے نہیں بلکہ باہر کے لوگوں کے لیے کہی ہے تاہم دونوں جماعتوں نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

اس دوران ایوان کی کارروائی جاری رہی تاہم کورم کی نشاندہی اور کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس جمعرات کی صبح ساڑھے دس بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں بھی حزبِ مخالف کی جماعتیں وزیرِ داخلہ کے رویے کے خلاف احتجاج کر چکی ہیں اور یہ جماعتیں ایوان کے باہر اجلاس منعقد کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں