’مقدمہ صرف فوجی عدالت میں ہی چل سکتا ہے‘

Image caption پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمرقید ہے

پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے اپنے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے اختیارات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

سنیچر کو ان کے وکیل خالد رانجھا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے تین نومبر 2007 کا اقدام بطور آرمی چیف کیا تھا اس کے لیے ان کے خلاف مقدمہ صرف آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالت میں ہی چل سکتا ہے۔

غلطیوں پر معافی مانگتا ہوں: مشرف

مشرف کے خلاف غداری مقدمے کی درخواست منظور

درخواست میں خصوصی عدالت اور محکمۂ داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریوں کو فریق بنایا گیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئین معطل کرنے اور ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اقدام پرویز مشرف کا انفرادی فعل نہیں تھا اور اس میں دیگر ’سٹیک ہولڈز‘ سے بھی مشاورت کی گئی تھی۔

سابق صدر کے وکیل نے یہ بھی کہا ہے کہ اس لیے صرف پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنا آئینِ پاکستان کے آرٹیکل دس اے کی خلاف ورزی ہے جوکہ آزادانہ اور منصفانہ مقدمے کی ضمانت دیتا ہے۔

درخواست میں خصوصی عدالت کو کام سے روکنے کے لیے حکمِ امتناع جاری کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کی 13 تاریخ کو تین رکنی خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے سابق فوجی حکمران جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں 24 دسمبر کو طلب کیا ہے۔

اس درخواست میں پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے۔

جمعہ کو پرویز مشرف کے وکلا کے بین الاقوامی پینل نے بھی لندن میں ایک نیوز کانفرنس میں اقوام متحدہ سے اپیل کی تھی کہ ان کے موکل کے خلاف غداری کے مقدمے میں مداخلت کرتے ہوئے مقدمے پر کارروائی کو روکنے میں مدد کی جائے۔

اقوامِ متحدہ کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب سے بھی اس معاملے میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

اپیل میں کہا گیا تھا کہ مشرف کے خلاف پاکستان میں غداری کا مقدمہ نمائشی ہے اور اقوام متحدہ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف پر زور دے کہ وہ اس مقدمے پر عدالتی کارروائی روک دیں یا اسے ملتوی کیا جائے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مشرف کے وکلا نے بتایا کہ اس اپیل کی کاپی اقوام متحدہ میں حقوق انسانی کے کمیشن کے علاوہ اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر کو بھیجی گئی ہے جو ججوں کی آزادی اور سزائے موت کے مقدمات سے متعلق شکایات کا جائزہ لیتے ہیں۔

مشرف کے وکلا کے مطابق اسی طرح کی اپیل برطانیہ، سعودی عرب اور امریکہ کی حکومتوں سے بھی کی گئی ہے کیونکہ ان کے موکل جب حکمراں تھے تو انھوں نے مغرب کی بے حد مدد کی تھی۔

وکلا کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والے ججوں کا انتخاب نواز حکومت نے کیا ہے اور اس وجہ سے منصفانہ عدالتی کارروائی ممکن نہیں ہے۔

مشرف کے قانونی ٹیم کے رکن سٹیون کے کا کہنا ہے سیاست دانوں کو کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ عدالتی کارروائی کے لیے ججوں کا انتخاب کریں تاکہ اپنے مخالفین کے خلاف مقدمہ چلا سکیں۔

اس کے علاوہ اپیل میں کہا گیا ہے کہ ان کے موکل کی جانب سے عدلیہ کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے نہ تو کوئی وکیل اور نہ ہی جج غیر جانبداری کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔

خیال رہے کہ تین نومبر سنہ 2007 کو بطور فوجی صدر پرویز مشرف نے آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی جس کے بعد گذشتہ روز ریٹائر ہونے والے ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے 60 ججوں کو نظر بند کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں