پشاور کا مغوی ڈاکٹر قبائلی علاقے سے بازیاب

Image caption خیبر پختون خوا میں دو سالوں میں ایک درجن سے زیادہ ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ہے

رواں ماہ کے آغاز میں پشاور سے اغوا کیے گئے ڈاکٹر امجد تقویم کو قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مغوی ڈاکٹر کو سنیچر کو تحصیل باڑہ سے برآمد کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق انتظامیہ کو اطلاع ملی تھی کہ تودہ میلہ کے علاقے میں مغویوں کو رکھا گیا ہے اور اس اطلاع پر ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں ڈاکٹر امجد بازیاب ہوئے ہیں۔

پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایک وارڈ کے انچارج ڈاکٹر امجد کو تین دسمبر کو نامعلوم افراد نے اس وقت اغوا کیا تھا جب وہ حیات آباد کے علاقے میں واقع مسجد سے نماز کی ادائیگی کے بعد نکلے تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ چند ماہ کے دوران متعدد ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ہے۔

صرف پشاور سے ڈاکٹر امجد کے علاوہ دیگر دو معالج ڈاکٹر مجاہد حسین بنگش اور ڈاکٹر کامران عامر خان بھی بالترتیب ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں اغوا ہوئے تھے اور ان میں سے ڈاکٹر کامران گذشتہ ماہ بازیاب ہو کر واپس گھر پہنچ چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر مجاہد تاحال لاپتہ ہیں۔

ڈاکٹر مجاہد حسین کا تعلق قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے ہے اور وہ سینیئر ڈاکٹر ریاض حسین کے بھائی ہیں جنھیں پشاور میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

اغوا کے ان بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف پشاور سمیت صوبے کے متعدد شہروں میں ڈاکٹروں نے ہڑتالیں بھی کی ہیں۔

ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں ڈاکٹروں کو دھمکی آمیز خطوط بھی ملے ہیں جس کے بعد اب سینیئر ڈاکٹرز دیگر شہروں کو منتقل ہو رہے ہیں۔

خیبر پختونخوا کی ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے صدر ڈاکٹر موسیٰ کلیم نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دو سالوں میں ایک درجن سے زیادہ ڈاکٹروں کو اغوا کیا گیا ہے جن میں سے اکثر تاوان ادا کرنے کے بعد اپنے گھروں کو پہنچے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں ڈاکٹر ایسے ہیں جنھیں دھمکی آمیز خطوط ملے ہیں اور وہ ظاہر نہیں کر رہے۔

ڈاکٹر موسی کلیم کے مطابق اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے اب بڑی تعداد میں سینیئر ڈاکٹرز اسلام آباد منتقل ہو رہے ہیں اور ابتدائی طور پر کچھ ڈاکٹروں نے اپنی پریکٹس جزوی طور پر اسلام آباد میں شروع کر دی ہے۔

ان کے مطابق اگر پشاور میں صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وہ مستقل طور پر اسلام آباد یا دیگر شہروں میں رہائش اختیار کر لیں گے۔

اسی بارے میں