خیبر ایجنسی میں پولیو ٹیم کا ایک اور رکن ہلاک

Image caption جمرود میں اس سے پہلے بھی انسداد پولیو ٹیم کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں انسدادِ پولیو کی مہم سے وابستہ ایک کارکن کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کو تحصیل جمرود میں پیش آیا۔

انتظامیہ کے اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ غالب خان نامی کارکن مقامی ڈاکٹر کے ساتھ کام کرتے تھے اور علاقے میں پولیو مہم کے دوران قطرے پلانے والی ٹیم کے رکن بھی تھے۔

اہلکار کے مطابق غالب خان پر نامعلوم افراد نے جمرود کے علاقے غنڈی میں فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔ انھیں فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔

جمرود کے علاقے میں اس سے پہلے بھی انسداد پولیو کی ٹیموں کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رواں ماہ کی تیرہ تاریخ کو زڑہ غونڈے میں نامعلوم افراد نے انسدادِ پولیو ٹیم کے اہل کار محمد یوسف کو اس کے گھر کے قریب حجرے میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان کو ملک اور خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں پولیو کے خاتمے کےحوالے سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ پولیو ٹیموں پر حملے ہیں۔

پاکستان میں گذشتہ ایک سال سے انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں جس کے بعد ان کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کے ساتھ پولیس اہل کار تعینات کر دیے جاتے ہیں۔

ان ٹیموں پر حملوں میں دو درجن کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد ان ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے والے پولیس کے ارکان کی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے حال ہی میں پولیو ٹیموں کو نشانہ بنانے والوں سے ایسا نہ کرنے کی اپیل کی تھی جس کے بعد انھیں بھی دھمکیاں ملی ہیں۔

اسی بارے میں