اسلام کا قلعہ کیوں ہے؟

حال ہی میں بی بی سی اردو کے محمد حنیف نے کراچی کے انڈس ویلی سکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر کی بیسویں تقسیمِ اسناد کی تقریب میں صدارتی خطاب دیا۔ اس میں بات پاکستان میں آرٹ اور آرکیٹیکچر کے مستقبل کی بھی ہوئی انڈس ویلی سکول کے ہونہار طلبعلموں کے مستقبل کی بھی۔

لیکن اسی خطبۂ صدارت میں کہیں سے ایک بھینس بھی آبھٹکی، علامہ اقبال کا بھی ذکر ہوا، جزا سزا کے معاملات پر بھی رائے زنی ہوئی اور اس معاشرے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس میں اس نئی پود نے پلنا ہے۔

میری خواہش ہے کہ ہمارے ساتھی محمد حنیف کی یہ باتیں بی بی سی اردو کے ذریعے آپ تک بھی پہنچیں۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی صدارتی خطاب کے صدارتی ڈیل ڈول کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختصر نہ ہو۔ لہذا ہم نے ان کا یہ نسبتاً طویل مقالہ قسط وار شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلی قسط بیس دسمبر کو شائع کی گئی تھی۔پیش خدمت ہے دوسری قسط، پڑھیے، محظوظ ہویے، پسند کیجیے یا ناپسند، ہمیں اپنی رائے ضرور بھیجیے۔

عامر احمد خان، ایڈیٹر بی بی سی اردو

آپ کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ آپ تخیل کی دنیا میں رہتے ہیں، سوچتے زیادہ ہیں اور کام کم کرتے ہیں، اپنے خیالوں کے گھوڑے دوڑاتے ہیں، جم نہیں جاتے، گھر کے کام میں ہاتھ نہیں بٹاتے۔ آپ سے یہ امید ہے کہ آپ میں سے کچھ صادقین بنیں گے، کچھ شاکر علی، کوئی عارف حسن بن کر ہمیں بتائے گا کہ یہ شہر کیسے بنتے ہیں، کوئی راشد رانا بن کر یہ دکھائے گا کہ شہر تباہ کیسے ہوتے ہیں۔

آپ میں سے کوئی ایڈورٹائزنگ میں جائے گا اور ہماری اپنی زمین کا پانی نیسلے کی بوتلوں میں بھر کر ہمیں بیچے گا۔ کوئی ہمیں دنیا کی سستی ترین موبائل فون کال بیچے گا، کوئی بحریہ ٹاؤن کو بے آباد جزیرے آباد کرنے کے گر سکھائے گا، شاید کوئی اس مخمصے میں پڑ جائے کہ بت تراشی حلال ہے یا حرام۔ شاید کوئی یہ بھی پوچھے کہ شریعت میں کونسیپچوئل آرٹ کی اجازت ہے یا نہیں۔ کوئی اپنے ہاتھوں سے کام کرے گا، کسے کے فن پارے بھٹیوں میں، ورکشاپوں میں مزدور اور کاریگر بنائیں گے۔

اس سے پہلے کہ آپ نیویارک اور پیرس کی گیلریوں میں اپنی نمائش کے لئے تصویریں کھنچوائیں، اس سے پہلے کہ آپ غریبوں کے لئے سستے گھر بنائیں جو گرمیوں میں سرد رہیں اور سردیوں میں گرم۔ اس سے پہلے کہ آپ ایک شاعرانہ نام والی کوئی نئی لان لانچ کردیں، میری آپ سے گزارش ہے کہ اس ملک کو، اس معاشرے پر ایک نظر ڈالیں، اس کے بارے میں جو آپ کو پڑھایا گیا ہے، بتایا گیا ہے، اسے سمجھیں، اور اگر سمجھ نہیں آتا تو اس پر سوال اٹھائیں۔ میں نے آپ کا کام آسان بنانے کے لیے ایک پانچ نکاتی ایجنڈا ترتیب دیا ہے۔ پانچ سوال جن کا جواب تو میرے پاس نہیں ہے لیکن میں آپ کی مدد سے ان کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کروں گا۔ پانچ سوال یہ ہیں:

1 کیا ہمارا ملک اسلام کا قلعہ ہے؟

۲۔ کیا ہماری قوم خدا کا تحفہ ہے؟

۳۔ ہم کیوں کہتے ہیں کہ ہم سب بھائی بھائی ہیں؟

۴۔ کیا سگرٹ نوشی واقعی مضر صحت ہے؟

۵۔ اور سب سے اہم سوال اگر آرٹ گریجویٹ کا دل آرٹ سے بھر جائے، یا اگر وہ آرٹ بنائے اور اسے بیچ نہ پائے تو کھائے کہاں سے؟

کیا ہمارا ملک اسلام کا قلعہ ہے؟

آپ میں سے کچھ نے شعبہ تعمیرات میں تعلیم حاصل کی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ عمارتیں اور بستیاں کیسے بنائی جاتی ہیں؟ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ قلعہ وہاں بنایا جاتا ہے جہاں دشمنوں کی مسلسل یلغار کا خطرہ ہو۔ اونچی فصیلوں اور بھاری دروازوں کی ضرورت وہاں پڑتی ہے جہاں پر شک ہوتا ہے کہ ہر اندر آنے والا دشمن ہے اور باہر جانے والا سازشی یا جاسوس۔

ہمارے ملک میں دو قلعے بہت مشہور ہیں۔ ایک لاہور کا شاہی قلعہ اور دوسرا اٹک والا۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں ان دونوں قلعوں کو ٹارچر سیل کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے قید خانوں میں عام طور پر سیاسی قیدیوں، مبینہ دہشت گردوں اور شاعروں کو رکھا جاتا تھا۔ اب شاعر اتنے ہوگئے ہیں کہ انہیں لوگ گھروں میں بھی رکھنے کو تیار نہیں۔

اور یہ قلعہ جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسلام کی حفاظت کے لیے بنایا یہاں بھی ہم وہی کرتے ہیں جو شاہی قلعے میں کرتے تھے۔ ہم نے اسلام کو بھی زیر زمین ٹارچر سیل میں بند کر رکھا ہے۔ اسے وقفے وقفے سے بجلی کے جھٹکے دیتے ہیں، کبھی اس کے ناخن کھینچنے جاتے ہیں، کبھی اسلام کا جسم جلتے سگریٹ سے داغا جاتا ہے۔ اسلام چیخ چیخ کر کہتا ہے کہ میرے نام کا تو مطلب ہی سلامتی ہے، میرا تو پیغام ہی امن ہے۔ لیکن یہ تشدد جاری رہتا ہے اور اسلام اسی طرح کی باتیں کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔۔۔ ہندوستان سے رشتہ کیا، نفرت کا انتقام کا۔ بجلی کا ایک اور جھٹکا اور اسلام چیخ اٹھتا ہے شاتم رسول ﷺ کی سزا سر تن سے جدا۔

اسلام کی سسکیاں اس تہہ خانے میں گونجی رہتی ہیں۔ اسلام کہتا ہے میرے ماننے والوں اور کچھ نہیں تو ڈکشنری اٹھا کر میرے نام کا مطلب دیکھ لو۔ پھر بجلی کا ایک اور جھٹکا اور اسلام پکار اٹھتا ہے کافر کافر سارے کافر۔ پھر اسے اذیت دینے والوں میں سے کوئی کھڑا ہو کر اذان دیتا ہے اور ہم سب صفیں باندھ کر سر بسجود ہوجاتے ہیں۔

اسلام کی سسکیاں قلعے میں گونجتی رہتی ہیں۔ میں نے چونکہ بچپن میں ہی سیکھ لیا تھا کہ کوئی خطاب مطالبات کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تو میرا ملک کے مستقبل کے بڑے فنکاروں سے یعنی آپ سے مطالبہ ہے کہ اسلام کو اس قلعے سے آزاد کیا جائے اور اسے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہنے کا موقع دیا جائے۔ اور آپ کے لیے یہ دعا کہ آپ کا دل قلعہ نہ بنے جو ہر آنے جانے والے سے ڈرتا ہو، جہاں کوئی اجنبی نہ آسکتا ہو۔ آپ کا دل ایک کھلا آنگن رہے جہاں سانس لینے میں آسانی ہو۔

اسی بارے میں