بینظیر قتل کیس: ’ایسا لگتا ہے کہ اس مقدمے کو داخلِ دفتر کردیا گیا ہے‘

Image caption بے نظیر بھٹو کو چھ برس قبل آج ہی کے دن راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قتل کر دیا گیا تھا

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے وفاقی تحقیقاتی یعنی ایف آئی اے کی ٹیم نے اس مقدمے کے اہم ملزم اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی ضمانت منظور ہونے کے بعد سے اب تک اس کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں کی۔

ایف آئی اے کے ذرائع کے مطابق اس اہم مقدمے کی تفتیشی ٹیم نے مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے نہ تو کسی سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی تفتیشی ٹیم کے ارکان نے کسی کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس اہم مقدمے کو داخلِ دفتر کردیا گیا ہے کیونکہ اس تفتیشی ٹیم کے ارکان کا گُذشتہ کئی ماہ سے کوئی اجلاس بھی نہیں ہوا۔

بےنظیر قتل کیس پر کارروائی دوبارہ

مشرف پر بےنظیر قتل کیس میں فردِ جرم عائد

’بےنظیر کو پورے گاؤں نے قتل کیا‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کی موجودہ حکومت نے بھی ابھی تک سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم سے اس مقدمے کی پیش رفت سے متعلق کوئی معلومات حاصل نہیں کیں اور نہ ہی اس ضمن میں اُنھیں کوئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ایف آئی اے کی ٹیم نے اب تک اس مقدمے کی سماعت کرنے والی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دس نامکمل چالان پیش کیے ہیں۔ آخری تین چالانوں میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود کے ہمراہ مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔

اس تفتیشی ٹیم نے پانچ سال کے بعد امریکی شہری مارک سیگل کا بیان ریکارڈ کیا تھا جس کی بنا پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کا مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔ لیکن اس تفتیشی ٹیم کی طرف سے پیش کردہ چالان پر ہی پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کے قتل کے مقدمے میں ہی پرویز مشرف کی ضمانت منظور کرلی ہے۔

مارک سیگل نے اپنے بیان میں صرف یہ کہا تھا کہ بےنظیر بھٹو کے ساتھ ملاقات کے دوران اُنھیں ایک ٹیلی فون آیا تھا جسے سُننے کے بعد وہ بہت پریشان تھیں۔ پرویز مشرف کے وکیل الیاس صدیقی کا کہنا ہے کہ اس بیان میں اُن کے موکل کا نام نہیں تھا۔

سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے میں پرویز مشرف سمیت آٹھ ملزمان پر فرد جُرم عائد کی جا چکی ہے اور اس واقعے کو چھ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ابھی تک اس مقدمے میں صرف نو گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے ہیں۔

اس طرح اس اہم مقدمے میں شہادتیں قلم بند ہونے کی رفتار ڈیڑھ افراد فی سال ہے، حالانکہ اس مقدمے میں 129 سرکاری گواہوں کی فہرست انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کی گئی تھی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مقدمہ اسی رفتار سے چلتا رہا تو اس کا فیصلہ ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

Image caption اس مقدمے میں پرویز مشرف پر اگست میں فردِ فردِ جرم عائد کی گئی تھی تاہم انھوں نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا

اس مقدمے کے مرکزی ملزم قرار دیے جانے والے پرویز مشرف کی عدالت میں تین پیشیوں کے بعد ضمانت منظور ہو جاتی ہے اور عدالت یہ قرار دیتی ہے کہ استغاثہ کے پاس پرویز مشرف کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔

اس کے برعکس اسی مقدمے میں 2008 سے پانچ ملزمان گرفتار ہیں جو ان دنوں اڈیالہ جیل میں ہیں اور اُن کی ضمانتوں کی درخواستیں مسترد کی جاتی رہی ہیں۔ فوجداری مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل سردار اسحاق کا کہنا ہے کہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے حسنین گُل اور محمد رفاقت کے خلاف ٹھوس شہادتیں موجود ہیں کہ وہ خودکش حملہ آوروں کو لے کر آئے جب کہ دیگر تین ملزمان کے خلاف شہادتیں ناکافی ہیں ۔

ان پانچوں ملزمان کے خلاف اعانتِ مجرمانہ کا الزام ہے اور اس الزام کے تحت پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک شخص کو موت کی سزا دی گئی ہے اور شخص بےنظیر بھٹو کے والد اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اس کو عدالتی قتل قرار دیتی ہے۔

بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر کا نام اُن کے بیرون ملک چلے جانے کے بعد درج کیا گیا تھا۔ جس وقت وہ پاکستان میں تھے تو ایف آئی اے نے اُنھیں اس قتل کے مقدمے میں سوالنامہ بھیجا تھا جسے بعض ’وجوہات‘ کی بنا پر واپس لے لیا گیا۔

سابق وزیر داخلہ رحمان ملک سابق فوجی صدر کا نام اس مقدمے میں شامل کرنے کے لیے اُس وقت زیادہ متحرک دکھائی دیے جب جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف بیرون ملک چلے گئے تھے۔ انھی کے دور میں ہی وزارت داخلہ نے ملزم پرویز مشرف کو پاکستان واپس لانے کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا تھا لیکن انٹرپول کے حکام نے پاکستان کے ساتھ اس ضمن میں تعاون کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

یاد رہے کہ اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کی سربراہی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل خالد قریشی کر رہے ہیں۔ مذکورہ افسر اُس ٹیم کا بھی حصہ ہیں جس نے پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں تحقیقات کی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بےنظیر بھٹو کا قتل سیاسی رنگ اختیار کرچکا ہے۔ ادھر سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے اسے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اقتدار میں رہتے ہوئے اس مقدمے کی عدالتی تحقیقات مکمل کرنے کی کبھی درخواست نہیں دی۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد کہیں جا کر اُنھوں نے اپنی لیڈر کے قتل کے مقدمے کی جلد از جلد سماعت کرنے کے لیے متعلقہ عدالت میں درخواست دائر کی۔

اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن نے اقتدار میں آنے سے پہلے بےنظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا نعرہ لگایا تھا لیکن ابھی تک اس نعرے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا۔

اسی بارے میں