’بلوچ ناراض نہیں ہم سے بے زار ہیں‘

حال ہی میں بی بی سی اردو کے محمد حنیف نے کراچی کے انڈس ویلی سکول آف آرٹ اینڈ آرکی ٹیکچر کی بیسویں تقسیمِ اسناد کی تقریب میں صدارتی خطاب دیا۔ اس میں بات پاکستان میں آرٹ اور آرکیٹیکچر کے مستقبل کی بھی ہوئی انڈس ویلی سکول کے ہونہار طالب علموں کے مستقبل کی بھی۔

لیکن اسی خطبۂ صدارت میں کہیں سے ایک بھینس بھی آ بھٹکی، علامہ اقبال کا بھی ذکر ہوا، جزا سزا کے معاملات پر بھی رائے زنی ہوئی اور اس معاشرے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جس میں اس نئی پود نے پلنا ہے۔

میری خواہش ہے کہ ہمارے ساتھی محمد حنیف کی یہ باتیں بی بی سی اردو کے ذریعے آپ تک بھی پہنچیں۔ ظاہر ہے کہ کسی بھی صدارتی خطاب کے صدارتی ڈیل ڈول کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختصر نہ ہو۔ لہٰذا ہم نے ان کا یہ نسبتاً طویل مقالہ قسط وار شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پہلی اور دوسری قسط شائع کی جا چکی۔ پیش خدمت ہے تیسری قسط، پڑھیے، محظوظ ہویے، پسند کیجیے یا ناپسند، ہمیں اپنی رائے ضرور بھیجیے۔

عامر احمد خان، ایڈیٹر بی بی سی اردو

۲۔ کیا یہ قوم خدا کا تحفہ ہے؟

میں آپ کی جگہ ہوتا تو یہ پوچھتا کہ کیا ہر چیز خدا کا تحفہ نہیں ہے؟ آپ کے سکول سے ذرا دور ہمارے گندے سمندر پر ہزاروں میل کا سفر طے کر کے آئے ہوئے پرندے خدا کا تحفہ نہیں ہیں؟ کیا ان پرندوں کا شکار کرنے کے لیے قطر، کویت، اور امارات سے آئے ہوئے شیخ تحفہ نہیں ہیں؟

ہمارے ملک کے شمال میں برفیلے پہاڑ خدا کا تحفہ ہیں، ان پہاڑوں کو سر کرنے لیے دنیا کے ہر کونے سے آنے والے کوہ پیما خدا کا تحفہ ہیں اور ان کوہ پیماؤں کے تعاقب میں جاکر ان کے سر قلم کرنے والے مجاہد بھی تو اپنے آپکو خدا کا تحفہ کہتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے مکڈونلڈ اور برگر کنگ خدا کا ایک تحفہ ہیں۔ اور ان کے گٹر سے ہمارے بوڑھے سمندر میں گرتا پانی بھی خدا کا تحفہ ہے۔

کچھ تحفے ہمیں خدا نے دیے ہیں، اور کچھ تحفے ہم خدا کو دیتے ہیں۔ نئے چمکتے شاپنگ مال اور سُپر سٹورز میں صبح دروازے کھولنے سے پہلے، دھندہ شروع کرنے سے پہلے عام طور پر تلاوت کی آواز گونجتی ہے اور عام طور پر اس میں وہ خوبصورت آیت ضرور شامل ہوتی ہے اور جس کا اردو ترجمہ ہے ۔۔۔ ’تم خدا کی کس کس نعمت کو جھٹلائو گے‘۔

۳۔ ہم سب بھائی بھائی ہیں؟

آپ نے یقیناً سنا ہوگا کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ ہماری پیدائش سے پہلے کچھ لوگ جن میں بانی پاکستان محمد علی جناح بھی شامل تھے، ہندو مسلم بھائی بھائی کا نعرہ لگایا کرتے تھے۔ پھر ہم کہتے تھے بنگالی ہمارے بھائی ہیں۔ آجکل بلوچ ہمارے بھائی ہیں۔ جب ہم آپ کی طرح طالب علم تھے تو فلسطینی ہمارے بھائی ہوا کرتے تھے۔ ہمارے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لیے انہیں وظیفے دیے جاتے تھے۔

گزشتہ چند سالوں میں تین دفعہ مجھے فلسطین کی یونیورسٹی میں مختصر عرصے کے لیے آپ جیسے ہونہار طلبا کو پڑھانے کا موقع ملا۔ کریٹو رائٹنگ کا کورس تھا۔ میں کلاس میں گیا تو سب لڑکیاں تھیں۔ میں نے پوچھا لڑکے کیا ہوئے؟ مجھے بتایا گیا کہ لڑکے یا تو کمپیوٹر پر بیٹھے ہیں، یا فٹ بال کھیل رہے ہیں بلکہ زیادہ تر تو کمپیوٹر پر ہی فٹ بال کھیل رہے ہیں۔

Image caption عبدال قدیر کے بیٹے کو نامعلوم افراد نے کسی نامعلوم جگہ پر دو سال قید میں رکھ کر پھر گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا

میں نے اپنا تعارف کرایا تو ایک بچی نے شکایت کی کہ جب وہ امریکہ یا یورپ کا سفر کرتی ہے تو اسے امیگریشن والے روک لیتے ہیں۔ جاہلوں کو فلسطینی اور پاکستانی کی کوئی تمیز نہیں۔ اسے پاکستانی سمجھ کر بہت زیادہ پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ پاکستانیوں کو بھی ان ایئر پورٹوں پر روک لیا جاتا ہے اور انہیں پاکستانی ہی سمجھ کر پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔

یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ ان طالب علموں کے گھر میں کوئی انکل نہ ہی کوئی بڑا بھائی ایسا تھا جس نے کراچی یا لاہور یا کوئٹہ کی کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ سوچ کر بہت افسوس ہوا کہ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے عرب مسلمان بھائی پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے آیا کرتے تھے۔ اب صرف شکار کھیلنے آتے ہیں۔

ہم بلوچوں کو بھی بھائی کہتے ہیں اور بھائی کہتے ہی ان پر فوجی آپریشن شروع کر دیتے ہیں۔ میری اپنی زندگی میں تیسرا آپریشن چل رہا ہے۔ پھر کہتے ہیں ہمارے بلوچ بھائی ہم سے ناراض ہیں۔

میں نے بھی ایک دفعہ بلوچ بھائی سے یہی کہا۔ اس نے ہم سے کہا ہم آپ سے ناراض نہیں ہم آپ سے بیزار ہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ کچھ بلوچ بھائی بندوق اٹھا کر پہاڑوں پر جا بیٹھتے ہیں۔ جن میں اتنی سکت نہیں ہے وہ میری اور آپ کی طرح آرٹسٹ بن گئے ہیں۔ اس آرٹ موومنٹ کا سرغنہ ماما قدیر نامی اک شخص ہے جس کی عمر چوہتر سال ہے۔ اس کے بیٹے کو نامعلوم افراد نے کسی نامعلوم جگہ پر دو سال قید میں رکھ کر پھر کسی نامعلوم وجہ سے گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

ماما قدیر اب اسی جیسے دوسرے بلوچ بچوں کی جان بچانے کے لیے جگہ جگہ ایک نمائش لگاتا ہے۔ اس نے بھی شاید کسی جگہ سے آرٹ کا ذکر سن لیا ہوگا اس لیے پچھلے مہینے کوئٹہ سے کچھ بچوں اور بچیوں کے ساتھ پیدل چل کر کراچی چل پڑا۔ ساڑھے سات سو کلومیٹر پہاڑوں اور سنگلاخ چٹانوں میں سے پیدل چلتا ہوا ابھی چند دن پہلے کراچی پریس کلب پہنچا ہے اور اپنی نمائش پھر سجالی ہے۔اس نمائش میں زیادہ تر لاپتہ اور مسخ شدہ پائے جانے والے لوگوں کی تصویریں ہیں۔ یہ اس وقت کی تصویریں ہیں جب وہ مسنگ اور مسخ شدہ نہیں تھے۔

میری آپ سے گزارش ہے کہ ایک آرٹسٹ ساڑھے سات کلومیٹر چل کر اپنا آرٹ آپ کو دکھانے آیا ہے۔ آپ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے نکال کر ماما قدیر کی اس نمائش کو دیکھنے ضرور جائیں۔ آپ آرٹ کے بارے میں بھی سیکھیں گے اور اس ملک کے بارے میں بھی۔ داخلہ مفت ہے بلکہ داخلے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ یہ نمائش کراچی پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر لگی ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔