کراچی: پانچ افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد

Image caption پولیس کے مطابق ان افراد نے ایک مقامی فیکٹری پر قبضہ کر رکھا تھا

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لیاری سے متصل پاک کالونی سے پیر کی صبح پانچ افراد کی لاشیں ملی ہیں جنھیں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق لاشوں پر متعدد نشانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں تشدد کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

پاک کالونی کے تھانیدار بلال رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پانچ افراد کی لاشیں ملیں جنھیں سول ہسپتال منتقل کر دیاگیا۔

انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ پانچوں افراد لیاری گینگ وار کا حصہ تھے اور مقتولین کا تعلق عزیر بلوچ گروپ سے تھا۔

تھانیدار نے کہا کہ ان افراد نے ایک مقامی فیکٹری پر قبضہ کر رکھا تھا اور یہ وہیں رہتے تھے، آج صبح ان کے مخالف بابا لاڈلاگروپ کے کچھ افراد نے ان کمپاؤنڈ پر دھاوا بول کر انھیں اغوا کرلیا اور بعد ازاں تشدد کے بعد قتل کردیا۔

تھانیدار بلال رضا کے مطابق مقتولین میں گلزار، رضوان ، عامر، شہزاد اور ساجد شامل ہیں اور ان سب کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساجد کے خلاف سات اور شہزاد کے خلاف پانچ مقدمات ان کے اپنے علاقے کے تھانے میں درج ہیں۔

مقامی میڈیا میں چھ افراد کی لاشیں ملنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ سول ہسپتال میں پہلے ہی سے دلاور نامی ایک شخص کی لاش موجود تھی جو اپنی طبعی موت مرا تھا اور لیاری کا نہیں بلکہ پرانا گولیمار کا رہنے والا تھا۔

دوسری جانب پیر کی صبح ساڑھے دس بجے کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک نمبر دو ایک گھر پر کریکر پھینکا گیا جس سے ایک چھ سالہ بچی ہلاک ہوگئی۔

علاقے کے تھانے فیروزآباد کے تھانیدار صفدر شہوانی کے مطابق یہ کسی ارشد نامی شخص کا بنگلہ ہے جو خود یہاں نہیں رہتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس گھر میں صرف چوکیدار اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا اور واردات کے وقت اس کے بچے لان میں کھیل رہے تھے ۔ کریکر کی زد میں آکر چوکیدار کی چھ سالہ بچی عظمٰی ہلاک جبکہ چار سال کا بیٹا زخمی ہوگیا۔

صفدر شہوانی کے مطابق ابھی تک اس واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے اور تفتیش جاری ہے۔

اسی بارے میں