مہنگائی کے دور میں دندان سازوں کی چاندی

Image caption پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا صرف ایک فیصد ہیلتھ سیکٹر پر لگایا جاتا ہے جو کہ حکومتی بجٹ کا چار فیصد ہے

پاکستان میں سڑکوں کے کنارے تقریباً 13000 غیر تربیت یافتہ اور غیر قانونی ڈینٹسٹ یعنی دانتوں کے ڈاکٹر لوگوں کو علاج فراہم کر رہے ہیں۔ انہیں عام اصطلاح میں دندان ساز بھی پکارا جاتا ہے۔

ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 78 فیصد عوام کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔اس کے علاوہ نجی کلینک میں علاج کے لیے جانے کی استطاعت رکھنے والے پانے والے افراد کی شرح اس سے بھی کم ہے۔

گندی گلیوں اور ریلوے کی ایک پرانی پٹری کے قریب دندان ساز نور الدین بھی سڑک کنارے بیٹھتے ہیں۔

ان کے پاس ہی گندی سی ایک چادر پر زنگ آلودہ ڈرل اور بے نشان بوتلوں میں کچھ گدلا مادہ تھا۔ اس کے علاوہ اس چادر پر پڑے تھے دانت، شیشے کے ایک ڈبے میں دانتوں کی بہت سی قطاریں۔

گذشتہ بیس سال سے یہ نورالدین کا ڈینٹل کلینک ہے اور وہ دانتوں کے مسائل کا فوری اور سستا حل فراہم کرتے ہیں۔ ان کےگاہک شکایت نہیں کر سکتے۔

طبی امور کے ایک جریدہ دی لانسٹ کی ایک حالیہ رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیاگیا ہے کہ پاکستان میں ہیلتھ انشورنس (طبی بیمے) کا کوئی سرکاری نظام نہیں ہے اسی لیے بہت سے پاکستانیوں کو بھاری طبی اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔

Image caption پاکستان میں بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم جدید ڈینٹل کلینکس میں نظر آتی ہے

عوامی صحت کے معاملے میں کسی جامع پالیسی کی عدم موجودگی کی وجہ سے حکومت کو غریب عوام کے لیے بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

جن لوگوں کو اپنی بقا کا مسئلہ پڑا ہوا ہے ان کے لیےدانتوں کی دیکھ بھال ایک ایسی لگژری ہے جس کے وہ متحمل نہیں ہو سکتے اور یہی وجہ ہے کہ سڑک کنارے بیٹھے دندان سازوں کے کاروبار کی چاندی ہے۔

پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بیشتر شہروں اور قصبوں میں سڑک کنارے دنداں ساز کام کرتے ہیں۔

حکام نے سڑک کنارے بیٹھے ان غیر قانونی طبی سہولیات فراہم کرنے والوں کے خلاف کئی بار کارروائی کی ہے تاہم وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ کر دوسری جگہ کام شروع کر دیتے ہیں۔ اس ملک میں بہت سی کچی آبادیاں ہیں جہاں ان کی سروسز کی ضرورت ہے۔

نورالدین کہتے ہیں کہ:’اگر آپ امیر ہیں تو آپ بیرونِ ملک سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔ میں تو بس غریبوں کا ڈاکٹر ہوں۔‘

دوسری جانب پاکستان میں بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم آپ کو جگمگاتے ہوئے دارالحکومت اسلام آباد میں ڈاکٹر انیس الرحمان کے جدید ترین کلینک میں نظر آئے گی۔

اس کلینک کی دیواروں پر بہترین تصاویر اور فضا میں کلاسیکل موسیقی گونجتی ہے جو ڈینٹسٹ کی ڈرل کی آواز کو دبا دیتی ہے۔

اس کلینک میں صاحبِ استطاعت کے لیے دانتوں کا بہترین علاج کیا جاتا ہے۔

دانتوں کو صرف ایک دفعہ چمکانے کے لیے دو سو امریکی ڈالر تک معاوضہ لیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس ملک کی تقریباً ایک تہائی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتی ہے۔

اس کلینک کے ویٹنگ روم میں گوچی بیگز اور مہنگے جوتے یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان کے امرا کے لیے خوبصورت مسکراہٹ کو حاصل کرنے میں پیسہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔

ڈاکٹر رحمان کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں جو ان کے کلینک سے علاج کروانے کی سکت رکھتے ہیں وہ ضرور ایسا کریں گے کیونکہ ’ہم نہ صرف دانتوں کو کارآمد بنا دیں گے بلکہ وہ دیکھنے میں بھی اچھے لگیں گے۔‘

پیشہ ورانہ ڈینٹسٹ کہتے ہیں کہ دانتوں کے علاج کی بڑھتی قیمت کی وجہ درآمد کیےگئے آلات اور مشینیں ہیں۔

پاکستان میں ڈینٹسٹ کی کرسی کی قیمت ایک بہترین کار جتنی ہے اور ڈاکٹر رحمان کے کلینک کے باہر تو بہت سی مہنگی کاریں کھڑی ہیں۔

Image caption احمد کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتال مفت میں علاج تو فراہم کرتے ہیں لیکن ان کے جیسے لوگوں کے لیے راستے کم ہی ہیں

لیکن چھ افراد پر مشتمل خاندان کے سرپرست سبزی فروش احمد کے لیے سڑک کنارے بیٹھے ڈینٹسٹ ہی واحد راستہ ہیں۔ انہیں ذیابطیس کا مرض ہے اور ان کے دانت گل سڑھ رہے ہیں۔ انہیں جلد ہی نئے دانتوں کی ضرورت ہے۔

احمد کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتال مفت میں علاج تو فراہم کرتے ہیں لیکن ان کے جیسے لوگوں کے لیے راستے کم ہی ہیں۔

احمد کے منہ میں نئے دانت لگاتے ہوئے ہمارے دندان ساز لال رنگ کے کسی مہلول کا بڑے غور سے استعمال کر رہے ہیں۔ کبھی ان کے ہاتھ پر، کبھی آلات پر تو کبھی مریض پر مکھی بیٹھتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گندے آلات کے استعمال سے ہیپٹائٹس اور دیگر انفیکشنز کا خطرہ ہوتا ہے۔ مگر جو لوگ یہاں آتے ہیں ان کا مقصد صرف اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے تکلیف سے نجات حاصل کرنا ہوتا ہے۔

اسی لال مہلول سے رنگے اپنے نئے دانتوں کے ساتھ احمد نے مجھے بتایا کہ ’میں ایک ڈاکٹر کے پاس گیا تھا اور اس نے 3000 روپے (تقریباً 28 ڈالر) مانگے۔ مگر یہ آدمی صرف 250 روپے مانگ رہا تھا۔ جب میں نے کہا میں نہیں دے سکتا تو اس نے کہا چلو 200 ہی دے دو۔‘

اسی بارے میں