پشاور میں پولیو ٹیم پر پھر حملہ ایک اور کارکن ہلاک

Image caption صوبہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ کچھ عرصہ سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم سے وابستہ محکمۂ صحت کے ملازمین اور رضاکاروں پر حملوں میں شدت آ رہی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو کی ایک ٹیم پر ہونے والے حملے میں ایک کارکن ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی صبح پشاور شہر سے چند کلومیٹر دور مضافاتی علاقے متنی بازار میں پیش آیا۔

پشاور میں پولیو مہم سے وابستہ ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر کی داخلی اور خارجی راستوں پر کام کرنے والے پولیو کے دو کارکن بازار میں پولیو کے قطرے پلا نے کے کام میں مصروف تھے کہ اس دوران نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس سے ایک کارکن ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔

زخمی کارکن کو قریبی ہپستال منتقل کر دیا گیا۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ پشاور کے داخلی اور خارجی راستوں پر انسداد پولیو کی خصوصی ٹیمیں کئی مہینوں سے کام کر رہی ہیں جن کا کام پشاور شہر میں باہر کے علاقوں سے داخل ہونے والوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔

ان کے مطابق ہلاک و زخمی ہونے والے اہلکاروں کا تعلق بھی انھی خصوصی ٹیموں سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ خصوصی ٹیمیں شہر کے دور دراز کے علاقوں، بازاروں اور ٹرانسپورٹ کے اڈوں میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے کام پر مامور ہیں۔

Image caption محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ان حملوں میں کم سے کم 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور میں گزشتہ کچھ عرصہ سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم سے وابستہ محکمۂ صحت کے ملازمین اور رضاکاروں پر حملوں میں شدت آ رہی ہے۔

محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ان حملوں میں کم سے کم 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں اور مرنے والوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ خواتین کارکن بھی شامل ہیں۔

حکومت کی جانب سے ان حملوں میں اضافے کی وجہ سے پولیو ٹیموں کو سکیورٹی بھی فراہم کی گئی تاہم اس کے باوجود ان حملوں کمی نہیں آ رہی۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر درانی نے چند دن قبل بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو کہا تھا کہ انسداد پولیو مہم کے لیے انھیں 50 فیصد نفری ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے لگانی پڑتی ہے جبکہ پولیس کے پاس نفری اور وسائل کی کمی ہے۔

اسی بارے میں