سات فضول کہانیاں

کوے

سڑک کے اس جانب بلدیہ کے خاکروب ایک وی آئی پی قافلہ گزرنے سے پہلے عارضی جانفشانی سے راستے کی صفائی کر رہے تھے اور سڑک کے دوسری جانب اسی بلدیہ کا کچرے سے لبالب کھلا ٹرک آلائشیں گراتا گزر گیا۔ پسماندگان میں حلوائی کے کڑھاؤ، پان کے کھوکھے، قصائی کی دکان اور راہ گیروں کے منہ پر ٹرک والے کے لیے ماں کی گالی کے علاوہ وہ ہوا بھی شامل تھی جو ایک گھنٹے بعد تک بدبو سے حواس باختہ رہی کیونکہ کووں کو گری ہوئی آلائشوں کی چھینا جھپٹی کا کھیل ہاتھ آ گیا تھا۔

کباڑی

غریبوں کے مفت علاج کے جذبے سے سرشار جواں سال ڈاکٹر وہاب نے چار منزلہ جدید ترین ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں قصبے کی ہر اہم سیاسی و سماجی شخصیت اور سرکردہ ڈاکٹروں کو بطورِ خاص بلوایا۔ سبھی نے ڈاکٹر وہاب کے خوب قصیدے پڑھے۔ مریضوں کے ٹھٹھ لگ گئے۔ ہر کوئی ڈاکٹر وہاب کو جھولیاں بھر بھر کے دعائیں دے رہا تھا۔

چوتھے مہینے جانے کیا ہوا کہ پولیس ڈاکٹر وہاب کو پکڑ کے لے گئی۔ ہسپتال سیل کر دیا گیا اور علاقہ ایس پی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ مفت علاج کے پردے میں انسانی اعضا کا کاروبار ہو رہا تھا۔ پریس کانفرنس میں چار چادر پوش متاثرین بھی پیش کئے گئے جن کے گردے نکال لیے گئے تھے۔ البتہ صحافیوں کو ان متاثرین سے سوال و جواب کی اجازت نہیں دی گئی۔

ایک ہفتے بعد ڈاکٹر وہاب کی خاموشی سے ضمانت ہوگئی اور وہ واپس کینیڈا چلے گئے۔ ان کا ہسپتال قصبے کے ایک مشہور سرجن نے خرید لیا اور مفت علاج کا بورڈ ایک کباڑی گدھا گاڑی پر لاد کے لے گیا۔

عالی جاہ

’عالی جاہ، میرے کلائنٹ کو بس سات دن کے پیرول پر رہا کر دیں۔ بچی کی رخصتی کرواتے ہی فوراً حاضر ہوجائے گا۔‘

’مگر وکیل صاحب آپ ماشااللہ پچھلے بیس برس سے پریکٹس کررہے ہیں آپ کو بھی اندازہ ہے کہ اس جرم میں پیرول کی گنجائش نہیں۔ کیوں اپنا اور عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں۔‘

پیشکار نے پرچی پر لکھا ’گن لیے، پورے ہیں،‘ اور پرچی عالی جاہ کے روبرو رکھ دی۔ عالی جاہ نے عینک کے پیچھے سے پرچی کو سرسری سا دیکھا:

’ٹھیک ہے وکیل صاحب میں صرف آپ کی وجہ سے ملزم کا ایک ہفتے کا پیرول منظور کررہا ہوں۔ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ پانچ جنوری کو صبح نو بجے ملزم پیش ہو جائے ورنہ ۔۔۔‘

ضبط۔

مولانا صاحب سڑک پر لاش رکھ کے سرکاری بے حسی سے جاں بلب مجمع کو صبر و نظم و ضبط کی تلقین کر رہے ہیں اور عین مولانا کے پیچھے کھڑے چند سرفروش اسی سڑک پر واقع ایک عبادت گاہ کو جہنم رسید کرنے کی حکمتِ عملی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں آخری شکل دیتے ہوئے چل پڑے۔ مولانا کی صبریلی ضبطیلی تقریر جاری ہے ۔۔۔

کلمہ

منسٹر صاحب کی زیرِ صدارت اجلاس میں صوبے کو بھتہ مافیا سے پاک کرنے کے منصوبے کو آخری شکل دی جارہی ہے۔ اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران اپنی اپنی کارکردگی سے آگاہ کر رہے ہیں۔

منسٹر صاحب کا کہنا ہے کہ کارکردگی کا راگ مت دیں مجھے پراگریس چاہیے، اسلام آباد والوں کو کیا جواب دوں۔ اگلے ایک ہفتے میں اگر ٹھوس نتائج سامنے نہ آئے تو پھر مجھے مجبوراً دوسری ٹیم لانی پڑے گی۔ آئی وانٹ کوئِک رزلٹس ۔۔۔

پرسنل اسسٹنٹ نے منسٹر صاحب کو موبائل فون لا کے دیا اور کچھ کھسر پھسر کی۔ منسٹر صاحب اجلاس کے شرکا سے معذرت کرکے بغلی کمرے میں آگئے۔

’یار میں اس وقت میٹنگ کررہا ہوں بعد میں بات کرنا ۔۔۔ اوکے ۔۔۔ نہیں بالکل نہیں۔ پہلے ہی دس سے کم کرتے کرتے پانچ پر آگئے ہیں۔ اس نے کیا مجھے بالکل ہی چ سمجھ لیا ہے ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ اچھا اب سنو اگر وہ پانچ کروڑ بھی نہیں دے رہا تو پھر کلمہ پڑھوا دو ۔۔۔ اور آئندہ مجھے ڈائریکٹ فون نہ کرنا ۔۔۔ تمہیں کتنی دفعہ بتایا ہے شبلی کے ذریعے میسج کیا کرو ۔۔۔ جاہل سالا بات ہی نہیں سمجھتا۔‘

سوری گھر سے فون آ گیا تھا ۔۔۔ ہاں تو میں آخری وارننگ دے رہا ہوں کہ اگر اگلے ایک ہفتے میں بھتہ مافیا کا صفایا نہیں ہوا تو آپ لوگ پھر کوئی اور نوکری ڈھونڈھ لیں۔

غیرت

’اب آپ کو ڈالر یا قومی غیرت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے۔ ہم امریکی امداد کا کشکول اور اس ملک کے مفادات کا سودا کرنے والوں کے ہاتھ توڑ دیں گے۔ آپ اسی طرح تحمل کا مظاہرہ کریں، میں آپ کی جانب سے امریکی سفیر کو احتجاجی یادداشت پیش کرکے آتا ہوں۔‘

خوش آمدید مسٹر پالیٹیشن کیسے ہیں آپ؟ آج تو بہت غصے میں لگ رہے ہیں ۔۔۔ جی نہیں ہز ایکسیلنسی ایمبیسڈر میری یا میری پارٹی کی کیا مجال کہ غصے میں آئیں۔ آپ تو سمجھتے ہی ہیں کہ سیاست کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ہم تو پرانے نمک خوار ہیں ہا ہا ہا ہا۔

مہلت

ذرا دھیان سے سنو۔ ان چاروں کو پوائنٹ بلینک پر نہیں بلکہ دوڑا دوڑا کے گولیاں مارنی ہیں۔ ایک آدھ گولی اپنی ٹانگ یا ہاتھ پر بھی مار لینا۔ اور ہاں مارنے کے بعد ان کی جیب میں ناموں کی پرچی رکھنا مت بھولنا۔ پچھلی دفعہ تم لوگ بھول گئے تھے تو لاشیں اٹھانے والے ایس ایچ او کو شناخت میں بڑی دقت ہوئی تھی۔ ٹھیک سے سنبھال لینا اور کام مکمل ہونے کے بعد مجھے عید مبارک کا ایس ایم ایس کردینا۔ میں عدالت جارہا ہوں آج تیسرا سمن آیا ہے۔۔۔

’مائی لارڈ یقین کیجیے ہمارے پاس عمران، جاوید، نور محمد اور مہربان میں سے کوئی لڑکا نہیں۔۔۔ پھر بھی ہم پوری کوشش کریں گے کہ کل صبح تک ان کو بازیاب کرا کے پیش کرسکیں۔ بس ایک دن کی مہلت اور دے دیجیے مائی لارڈ ۔۔۔ بس ایک دن کی۔‘

اسی بارے میں