پیسکو کا اختیار خیبرپختونخوا کودینے کی منظوری

بجلی کا بحران
Image caption ماہرین کا کہنا ہے بجلی کی نرخ بڑھنے سے صوبائی حکومت کو سیاسی طور پر مشکل صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا

وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی خواہش کے مطابق پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یعنی پیسکو کا اختیار صوبے کو دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کریں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیسکو کو صوبائی حکومت کے حوالے کرنے پر وزیراعظم نے اصولی طور پر وزارت پانی وبجلی کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔

بیان کے مطابق وزیر اعظم نے احکامات جاری کیے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید کارروائی کے لیے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو خط بھیجا جائے۔

اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ چونکہ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد صوبوں کا اپنے وسائل پر پورا حق ہے اس لیے صوبہ خیبر پختونخوا میں بننے والی بجلی کی تقسیم اور ریکوری کا اختیار صوبے کو دیا جائے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ اگر وفاق نے انھیں بجلی بنانے اوراس کی تقسیم کا اختیار دیا تو وہ صوبے کوخوشحال بنانے کے علاوہ یہاں سے بجلی چوری کا بھی خاتمہ کردیں گے۔

پاکستان میں بجلی بنانے اور اس کی تقسیم کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے اورصوبہ خیبر پختونخوا میں پانی سے پیدا ہونے والی بجلی سے ملک کی ضرورت کا بڑا حصہ پورا ہوتا ہے۔

پیسکو کا اختیار صوبے کو دینے کے صوبے پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ان امور سے آگاہ ایک سرکاری افسرنے بی بی سی کوبتایا کہ پیسکو شاید ایک سفید ہاتھی ہے جہاں پر لائن لاسز 35 فی صد ہیں اورگذشتہ سال اس کا خسارہ آٹھ ارب روپے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیسکو کا پورا نظام بوسیدہ ہونے کی بدولت اس کی ڈسٹری بیوشن تقریباً ناکارہ ہے۔گرڈ سٹیشنز کی اوورہالنگ کی ضرورت ہے، بجلی کی تاریں پرانی ہیں اورامن وامان کی خراب صورتحال کے باعث ایک تو کچھ علاقوں میں بجلی کے ٹاورز کو اڑا دیا جاتا ہے دوسرا وہاں پر میٹر ریڈر کا جانا ناممکن ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی کے نرخ بڑھنے سے صوبائی حکومت کوسیاسی طور پر مشکل صورتحال کا سامنا کرنا ہوگا، اس لیے وفاقی حکومت نے شاید پیسکو کوان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر کے انہیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔

اسی بارے میں