مشرف فارم ہاؤس: سات روز میں دوسری بار ’ناکارہ بارود‘ برآمد

Image caption دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کے یہ واقعات پرویز مشرف کی زندگی کولاحق خطرات کے بارے میں ان کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے: رضا قصوری

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سابق صدر پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کے قریب سے ایک ہفتے کے عرصے میں دوسری بار ’ناکارہ بارود‘ کے پیکٹ برآمد ہوئے ہیں۔

یہ ’ناکارہ بارود‘ ایسے وقت ان کی رہائش گاہ کے قریب سے ملا ہے جب عدالت نے دو دن بعد یعنی بدھ کو ملک کا آئین توڑنے کے الزام میں ان پر فرد جرم عائد کرنی ہے اور عدالت نے انھیں اس پیشی پر عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

دوسری جانب سابق صدر کی قانونی ٹیم کے اہم رکن احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کے یہ واقعات پرویز مشرف کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں ان کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

اس سے قبل 24 دسمبر کو عدالت میں ان کی پیشی پر بھی اسی مقام کے قریب سے بارود کے پیکٹ اور دو پستول ملے تھے۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سابق صدر کو اس پیشی کے لیے عدالت میں آنے سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔

مقامی پولیس سٹیشن بنی گالہ کے ایس ایچ او عبدالرؤف نے بی بی سی کو بتایا کہ دوسری بار ملنے والا یہ دھماکہ خیز مواد آدھ آدھ کلو کے پانچ پیکٹوں پرمشتمل ہے جو حملہ کرنے کے لیے تیار حالت میں نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ ان میں صرف ایک کے ساتھ ڈیٹونیٹر منسلک تھا اور دیسی ساختہ مواد کے یہ پیکٹ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر پڑے ہوئے تھے۔

سابق صدر پرویز مشرف کے چک شہزاد میں واقع فارم ہاؤس پر ان کی سکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس کے ڈھائی سو اہلکار تعینات رہتے ہیں جو دن رات مرحلہ وار ڈیوٹی سر انجام دیتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ سابق صدر کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بگٹی قتل کیس میں بلوچستان ہائی کورٹ نے سابق صدر کو پیشی کے لیے طلب کیا تو صوبائی حکومت نے ان کی سکیورٹی کا تسلی بخش بندوبست کرنے سے معذرت کی تھی۔

اسی بارے میں