فوج جنرل مشرف کے معاملے پر وضاحت کرے: اپوزیشن لیڈر

Image caption پرویز مشرف نے بڑا ’سمارٹ‘ بیان دیا ہے: خورشید شاہ

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کی موجودہ قیادت کو سابق صدر پرویز مشرف کے بیان کی وضاحت کرنی چاہیے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ فوج اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے پر خوش نہیں ہے۔

پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے بڑا ’سمارٹ‘ بیان دیا ہے۔

’اُنھوں نے گیند فوج کے کورٹ میں پھینک دی ہے اور اب یہ فوجی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرے کہ آیا وہ سابق فوجی صدر کے خلاف شروع کیے گئےغداری کے مقدمے میں ناخوش ہے یا وہ اس مقدمے کی حمایت کرتی ہے۔‘

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت کی طرف سے خاموشی نیم رضامندی کے مترادف ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر نے نہ صرف ملکی آئین توڑا ہے بلکہ ایک منختب وزیر اعظم کو ہتھکڑی لگوا کر وزیر اعظم ہاؤس سے گرفتار بھی کروایا ہے جو کہ پارلیمنٹ کی توہین تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں جب پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تو پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے اس کی تائید کی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کمزوری دکھائی ہے حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں نے موجودہ حکومت کو ملک میں امن کی بحالی کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اختیار دیا تھا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اُنھیں بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ گُذشتہ دورِ حکومت میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 132 ارب روپے ریکور کر کے قومی خزانے میں جمع کروائے تھے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں ابھی تک حقائق آنا باقی ہیں کہ آیا اتنی رقم سرکاری خزانے میں جمع بھی کروائی گئی ہے یا پھر اتنی رقم کے آڈٹ پیرا نمٹائے گئے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں تمام سرکاری اداروں کے پرنسپل اکاؤنٹس افسرز کو طلب کیا گیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا پہلا اجلاس منگل کو ہوگا جس میں سنہ 1998 اور 99 میں الیکشن کمیشن اور وزارتِ اطلاعات نشریات کے آڈٹ پیرز کا جائزہ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں