’فوجی پر مقدمہ صرف فوجی عدالت میں چل سکتا ہے‘

Image caption انٹرا کورٹ اپیل میں سابق صدر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کو فیئر ٹرائل کا حق ملنا چاہیے اور ان کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں کیا جائے

سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ فوجی عدالت میں ہی چلایا جا سکتا ہے اور سول عدالت کو کسی حاضر یا ریٹائرڈ فوجی کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار نہیں ہے۔

منگل کو اپنی رہائش گاہ پر سابق فوجی افسران اور اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ تین نومبر سنہ دوہزار سات میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ اپنے مفاد میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کیا تھا اور ان کے اس اقدام پر ان کے خلاف صرف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اُنھوں نے مقدمات میں کسی سے مدد طلب نہیں کی اور وہ خود ان مقدمات کا سامنا کریں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ لیڈر کو بہادر ہونا چاہیے اور اُنھیں فخر ہے کہ وہ سابق کمانڈو ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر بھی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر وہ دس سال کے بعد بھی وطن واپس آتے تو پھر بھی اُن کے خلاف مقدمات شروع ہوجاتے۔

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ عوام سیاسی قیادت سے مایوس ہوچکے تھے جس کے بعد وہ عوام کو مایوسی سے نکالنے کے لیے پاکستان واپس آئے ہیں۔

قبل ازیں سابق فوجی صدر نے غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی جانے والی خصوصی عدالت کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی ہے۔

سابق صدر کی جانب سے دائر کی گئی تین درخواستوں کو جسٹس ریاض احمد خان پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے اپنے مختصر حکم نامے میں مسترد کر دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان درخواستوں میں قانونی نکات نہیں اٹھائے گئے ہیں اور آرٹیکل چھ کے تحت مقدمے کی کارروائی ملٹری کورٹ میں نہیں بلکہ خصوصی عدالت میں ہو گی۔

انٹرا کورٹ اپیل میں سابق صدر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کو فیئر ٹرائل کا حق ملنا چاہیے اور ان کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں کیا جائے۔

انٹرا کورٹ اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ خصوصی عدالت میں بینچ کی تشکیل وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔

انٹرا کورٹ اپیل میں سابق صدر پرویز مشرف نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روکا جائے۔

پرویز مشرف نے اپنی درخواست میں مقدمہ سننے کے لیے بنائی گئی خصوصی عدالت کے لیے ججوں کی تقرری اور پراسیکیوٹر کی تعیناتی کے طریقۂ کار کو چیلینج کیاگیا تھا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت کے ججوں کا چناؤ وفاقی حکومت کا کام ہے جب کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے پانچ نام حکومت کو بھجوائے جس کا اسے اختیار نہیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کے تینوں جج پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدام سے متاثر ہوئے تھے اس لیے ان حالات میں مقدمے کی منصفانہ کارروائی ہوتی نظر نہیں آتی۔

ان درخواستوں کے مسترد ہونے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو 24 دسمبر کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہونا تھا۔ تاہم اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں سابق صدر کے فارم ہاؤس کے قریب ’ناکارہ بارودی مواد‘ برآمد کیا گیا تھا۔

اس برآمدگی کے بعد ان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ سکیورٹی خدشات کے باعث وہ عدالت میں نہیں پیش ہو سکتے۔

اسی بارے میں