حکومت کی طالبان سے مذاکرات کی نئی کوششیں

Image caption مولانا سمیع الحق وزیراعظم کی درخواست پر لاہور سے ملاقات کرنے اسلام آباد پہنچے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک طالبان سے ایک بار پھر سے بات چیت شروع کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کے امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد بات چیت کا عمل کھٹائی میں پڑا گیا تھا اور تقریباً دو ہفتے پہلے ہی حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے راستے کو ترجیح دینے کے اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد طالبان نے حکومت کی طرف سے مذاکرات کے ’آپشن‘ کو مسترد کر دیا تھا۔

منگل کو وزیراعظم نواز شریف نے جمعیت علمائے اسلام س کے سربراہ مولانا سمیع الحق سے اسلام آباد میں ملاقات میں انھیں طالبان سے بات چیت کا عمل شروع کرنے کی درخواست کی۔

’دہشت گردوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے‘

مذاکرات بے معنی ہیں، کارروائیاں جاری رکھیں گے‘

مولانا سمیع الحق کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا طالبان کے مختلف دھڑوں پر خاصا اثر و رسوخ ہے اور وہ حکومت کو طالبان سے بات چیت میں تعاون کی پیشکش بھی کر چکے ہیں۔

ملاقات میں شامل مولانا سمیع الحق کے ایک ترجمان احمد شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو وزیراعظم نواز شریف نے مولانا کو فون کر کے ملاقات کی درخواست کی تھی۔

احمد شاہ کے مطابق وزیراعظم نے ملاقات سے ملانا سمیع الحق سے کہا کہ ’ہم طالبان سے مذاکرات چاہتے ہیں اور اس کے حق میں ہیں اور اس میں آپ اپنا کردار ادا کریں اور ہم جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔‘

ملانا سمیع الحق نے وزیراعظم نواز شریف سے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ تعاون سے متعلق ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانا ہو گی اور اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں احمد شاہ نے کہا کہ ’ہمارا طالبان دھڑوں سے ابھی کوئی رابطہ نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم نواز شریف نے اچانک ہی فون کر کے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور طالبان سے بات چیت شروع کرنے کا کہا۔‘

Image caption کالعدم تنظیم پاکستان طالبان کے نئے سخت گیر رہنما ملا فضل اللہ نے چند دن پہلے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حکومت سے امن مذاکرات بے معنی ہیں

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ فضل اللہ کی جانب سے بات چیت سے انکار پر احمد شاہ نے کہا کہ ’ابھی تو طالبان سے رابطہ کرنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا اور طالبان سے رابطوں کے بعد ان کی طرف سے آنے والا ردعمل اہم ہو گا کیونکہ اس سے پہلے تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود سمیت کسی بھی رہنما نے بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو وہ ڈرون حملے میں مارا گیا۔‘

ایک دن پہلے ہی وزیراعطم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فوج اور عام شہریوں پر شدت پسندوں کے حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا جبکہ دو دن پہلے ہی مولانا سمیع الحق نے کہا تھا کہ طالبان پاکستان کے آئین کے خلاف نہیں ہیں اور ان سے مذاکرات سے پہلے انھیں تحفظ دیا جائے کہ ڈرون حملے نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے راولپنڈی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے بات چیت کا ٹاسک کسی ایک شخص کو نہیں سونپا گیا اور حکومت اپنے طور پر کام کر رہی ہے۔

’کل جماعتی کانفرنس طالبان سے بات چیت شروع کرنے کے فیصلے کی روشنی میں پوری حکومتی ٹیم کام کر رہی ہے۔‘

رواں ماہ کی 21 تاریخ کو پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ دہشت گردوں کے حملے ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، جبکہ 17 تاریخ کو پاکستان کی وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں طالبان سے مذاکرات پہلا آپشن ہوگا اور دیگر طریقے آخری حربے کے طور پر استعمال کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں