پاکستان میں شدید سردی بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی سولہ

Image caption محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں اتنی زیادہ سردی آخری بار نو دسمبر 1974 میں پڑی تھی

پاکستان میں سردی کی حالیہ لہر نے گلگت سے لے کر ساحلِ سمندر تک پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور منگل کو بلوچستان کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی سولہ ڈگری سنٹی گریڈ تک گر گیا۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سردی کی حالیہ لہر مزید دو دن تک اور جاری رہے گی اور اس کے بعد موسم کی شدت میں کمی ہونے کا امکان ہے اور اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں بھی صورت حال بہتر ہو گی۔

پاکستان میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ایسا کئی برس بعد ہوا ہے کہ پورا ملک ہی سردی کی لپیٹ میں آ گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا مقامی سطح پر اس کی وجہ بارش کا نہ ہونا یا ان میں تاخیر ہے جبکہ عالمی سطح پر یورپ اور اردگرد کے علاقوں میں غیر معمولی برفباری ہے۔

محمد حنیف نے بتایا کہ ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال موسم سرما کے دورانیے میں چالیس گھنٹے یا دو دن کی کمی واقع ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے کہ پاکستان میں موسم سرما سکڑ رہا ہے اور دو عشروں قبل موسم سرما کا دورانیہ ایک سو دس دن ہوا کرتا تھا جو اب کم ہو کر اسی سے پچاسی دن باقی رہ گیا ہے۔

محمد حنیف کا کہنا تھا ملک پر اس کا انتہائی منفی اثر پڑ رہا ہے۔ زراعت کے علاوہ موسم سرما میں کمی کی وجہ سے پانی کے ذخائر بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں مختلف موسموں میں پیدا ہونے والی شدت کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ تو عالمی درجہ حرارت میں اضافہ بھی لیکن اس کے علاوہ اس کے بہت سے مقامی عوامل بھی ہیں، جن میں آبادی کا دباؤ، شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ، جنگلات کا کٹاؤ، زمین کے استعمال میں تیزی سے تبدیلی اور فضائی اور زمینی آلودگی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں سب سے کم درجہ حرارت صوبہ بلوچستان کے شہر قلات میں ریکارڈ کیا گیا جہاں درجہ حرارت منفی 16 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

اس کے علاوہ درجۂ حرارت کوئٹہ اور سکردو میں منفی 13، دالبندین میں منفی نو اور پاراچنار اور مری میں منفی آٹھ ڈگری تک پہنچ گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں اتنی زیادہ سردی آخری بار نو دسمبر 1974 میں پڑی تھی۔

صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں پیر کی شب درجہ حرارت چار ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب صوبہ پنجاب میں بھی شدید سردی ہے اور لاہور شہر میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد تک پہنچ گیا۔ پنجاب کے دوسرے شہروں کی طرح ملتان میں دو، جبکہ گجرات میں درجہ حرارت منفی ایک سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں درجہ حرارت منفی تین ڈگری سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ 46 سالوں میں سرد ترین ہے۔

واضح رہے کہ 1984 میں اسلام آباد میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.8 ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم اس سے پہلے یہاں سب سے کم درجہ حرارت 1967 میں منفی 3.9 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد حنیف کا کہنا ہے کہ منگل کو ملک بھر میں سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

دریں اثنا شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں پانچ سال بعد پہلی برفباری ہوئی۔

کوئٹہ کا درجہ حرارات منفی 13 سینٹی گریڈ تک جاپہنچا جس کے باعث ندی نالوں میں بہننے والا پانی بھی منجمد ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ نلکوں میں بھی پانی جم گیا ہے جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں