’مشرف کو ایک بار تو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا‘

Image caption سابق فوجی صدر کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے یکم جنوری کو ان پر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا تھا

سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے خیال میں ان کے موکل آج عدالت میں پیش ہوں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والے خصوصی عدالت نے اُنہیں دو جنوری کو ہر صورت عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم کے عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں عدالت اُن کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ دے گی۔

اندازہ نہیں تھا کہ غداری کا مقدمہ چلے گا: مشرف

’آرمی چیف پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کہاں تک جا سکتے ہیں‘

’فوجی پر مقدمہ صرف فوجی عدالت میں چل سکتا ہے‘

ڈاکٹر خالد رانجھا نے بی بی سی سے خصوصی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کوئی آدمی انہیں اپنی زمہ داری پے ان کو ساتھ لانے کو تیار نہیں ہے۔ ان کی جان کو اور جو ان کے ساتھ ہیں ان کی جان کو خطر ہے اور یہ ایک مسئلہ ہے۔ ان کو طالبان قسم کے لوگوں سے خطر ہے جو ان کی جان کے درپے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر عدالت چاہے گی تو وہ کل وارنٹ جاری کر دے گی تو عدالت کو پھر اپنی زمہ داری پر لانا پڑے گا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ایسی گاڑی مل جاتی ہے جو بم پروف ہو تو کیا وہ آئیں گے تو ڈاکٹر خالد رانجھا کا جواب تھا کہ ’وہ بھاگ کے آئیں گے۔‘

دوسری جانب وکیلِ استغاثہ ایڈوکیٹ اکرم شیخ کا کہنا ہے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ایک بار تو لازماً عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر مشرف نہ آئے تو بالکل امکان ہے کہ عدالت ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دے گی۔‘

بدھ کو سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ غداری ایک ناقابل ضمانت جُرم ہے لیکن ابھی تک عدالت اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

منگل کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب کا کہنا تھا کہ عدالت اس لیے اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کر رہی کیونکہ وہ ملک کے سابق صدر اور بری فوج کے سربراہ رہے ہیں تاکہ کسی کو شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت بدھ کی صبح ہوئی جب کہ وہ خود سکیورٹی خدشات کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی چینل کے مطابق پرویز مشرف کے وکیل نے بطور حفاظتی تدبیر عدالت میں پرویز مشرف کی خود حاضری سے استثنیٰ کے لیے درخواست جمع کروائی ہے۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے یکم جنوری کو ان پر فردِ جرم عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

Image caption پرویز مشرف نے اپنے دفاع کے لیےشریف الدین کی خدمات حاصل کر لیں ہیں

غداری کے مقدمے کی پیروی کے لیے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں سات رکنی وکلاء کا پینل تشکیل دے رکھا ہے۔ اس ٹیم میں شامل ڈاکٹر خالد رانجھا نے عدالت کی توجہ وزیر اعظم کے ایک بیان کی طرف مبذول کروائی اور کہا کہ وزیر اعظم کا یہ بیان عدالتی امور میں مداخلت کے مترادف ہے اس لیے عدالت اس کا نوٹس لے اور اُنھیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے۔ تاہم عدالت نے ایسا نہیں کیا۔

پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے خصوصی عدالت میں دو درخواستیں بھی دائر کیں جس میں اس خصوصی عدالت کی تشکیل اور اس کے اختیارت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس خصوصی عدالت کے سربراہ بھی تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات سے متاثر ہوئے ہیں جس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا تھا جبکہ اُن کے سندھ ہائی کورٹ کے جج کی بحالی کے احکامات اُن کے موکل یعنی پرویز مشرف نے ہی دیے تھے۔

Image caption سپریم کورٹ نےمشرف کو قانونی لبادہ مہیا کیا تھا

انور منصور کا کہنا تھا کہ آئین میں یہ بات درج ہے کہ غداری کے مقدمے کی کارروائی سنہ 1956 سے شروع کی جانی چاہیے جبکہ اس مقدمے میں تو12 اکتوبر 1999 کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن ججز اور بیوروکریسی کے خلاف بھی کارروائی جائے جنہوں نے 1999 میں پرویز مشرف کا ساتھ دیا تھا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی اُس بینچ میں شامل تھے جس نے پرویز مشرف کے اقدام کو درست قرار دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق عدالت کل فیصلہ سُنائے گی۔

وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے پر غداری کا مقدمہ شروع کرنے کی استدعا کی تھی۔ پاکستانی آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کرنے کی سزا موت اور عمر قید ہے۔

گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بارے میں پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس عدالت کو ان کے موکل کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ یہ ایک خصوصی عدالت ہے، آئینی عدالت نہیں۔

پرویز مشرف کے وکیل کا سکیورٹی کے حوالے سے کہنا تھا کہ اگر ان کے موکل کو کچھ ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری عدالت پر عائد ہوگی۔

ڈی آئی جی سکیورٹی نے عدالت کو بتایا کہ وہ سابق صدر کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں موجود ہیں جو مشرف کی عدالت آمد و رفت کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں تاہم وہ گاڑیاں ’بم پروف‘ نہیں ہیں۔

Image caption پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کے قریب سے گذشتہ ایک ہفتے کے عرصے میں دوسری بار ’ناکارہ بارود‘ کے پیکٹ برآمد ہوئے ہیں

واضح رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سابق صدر پرویز مشرف کے فارم ہاؤس کے قریب سے گذشتہ ایک ہفتے کے عرصے میں دوسری بار ’ناکارہ بارود‘ کے پیکٹ برآمد ہوئے ہیں۔

ادھر ایک روز قبل ہی پرویز مشرف نے کہا تھا کہ تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ اپنے مفاد میں نہیں بلکہ ملکی مفاد میں کیا تھا اور ان کے اس اقدام پر ان کے خلاف صرف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

منگل کو اپنی رہائش گاہ پر سابق فوجی افسران اور اہل کاروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اُنھوں نے مقدمات میں کسی سے مدد طلب نہیں کی اور وہ خود ان مقدمات کا سامنا کریں گے۔

قبل ازیں سابق فوجی صدر نے غداری کا مقدمہ چلانے کے لیے قائم کی جانے والی خصوصی عدالت کے خلاف دائر کی جانے والی درخواستوں کو مسترد کیے جانے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر دی ہے۔

سابق صدر کی جانب سے دائر کی گئی تین درخواستوں کو جسٹس ریاض احمد خان پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے اپنے مختصر حکم نامے میں مسترد کر دیا تھا۔

اسی بارے میں