2013: طالبان سے مذاکرات کا خواب ادھورا ہی رہا

Image caption پاکستانی طالبان کے نئے قائد ملا فضل اللہ امن مذاکرات میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی نہیں دے رہے

پاکستان میں 2013 کا آخری سورج کچھ اس طرح غروب ہوا ہے کہ اس کے دوران حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا خواب دیکھنے والوں کو تعبیر نہیں مل سکی۔ پورا سال مذاکرات کی باتیں تو ہوتی رہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہو سکا۔

اسی سال حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان سمیت اپنے بہت سارے اہم رہنماؤں سے محروم ہونے والی تحریک طالبان نے فی الحال اپنے مستقبل کے ارادے خود تک محدود رکھے ہوئے ہیں، تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ قبائلی علاقے میں ڈرون کے زد میں آ کر نقصان اٹھانے والی یہ تنظیم اب ملک کے ہر بڑے شہر میں موجود ہے۔

سال شروع ہوا تو ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیوایم طالبان کی دھمکیوں کی زد میں تھیں۔

11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں ان جماعتوں کو اکثریت نہ ملنے کی وجہ بھی طالبان کی دھمکیوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ جو پچھلی بار حکومتوں میں تھے، اب اپوزیشن میں بیٹھے ہیں اور وہ جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف جنھیں طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی وجہ سے لبرل فورسز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بننا پڑا، اب مرکز اورصوبہ خیبر پختونخوا میں برسرِ اقتدار ہیں۔

ان جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی جب حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو ان جماعتوں کے بارے میں اندازے لگانے والوں کے منہ بند ہوگئے۔

ان حملوں کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی حکومت کو ہنی مون منانے کا موقع نہ مل سکا اور خود اس عرصے کے دوران تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی میں اپنے تین اراکین کھو چکی ہے جن میں سے دو کو خودکش حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

حکومت اور اپوزیشن میں موجود جماعتوں کی مشترکہ خواہش کے باوجود امن کے قیام کے لیے مذاکرات کیوں نہ ہو سکے؟

اس بارے میں تجزیہ کار سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے ایک فوج کا ان مذاکرات سے لاتعلقی کا اعلان کرنا تھا جو سیاسی قیادت کو روکنے کے لیے کافی تھا اور دوسری طرف ملک کی سیاسی قیادت کی نہ ہی کوئی حکمت عملی تھی اور نہ ہی انھوں نے اس کے لیے مناسب ٹیم مقرر کی جس کی وجہ سے حکومت تمام جماعتوں کا مینڈیٹ ملنےکے باوجود بھی پیش رفت نہ کر سکی۔

اس بارے میں بی بی سی کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی راہ میں پاکستانی فوج اور ایجنسیاں رکاوٹ ہیں جو بقول ان کے پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔

Image caption حکیم اللہ محسود یکم نومبر 2013 کو امریکی ڈرون کا نشانہ بنے

رواں سال دو ڈرون حملوں میں تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود اور اہم رہنما ولی الرحمان نشانہ بنے تو طالبان کی کارروائی کرنے کی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھے، لیکن سال کے آخر تک صورتِ حال اس حال پر پہنچ گئی کہ طالبان عناصر کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور جیسے شہروں میں عوام سے جہاد کے نام پر ’چندہ‘ وصول کرتے نظر آئے۔

اب جب کہ ملک میں طالبان اور حکومت کے مابین مذاکرات نام کا کوئی عمل نظر نہیں آ رہا، تو سال کے آخری دن ملک کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے ایک بار پھر یہ نوید سنائی کہ حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے جس کی معاونت طالبان کے استاد سمجھے جانے والے مولانا سمیع الحق اور ان جیسے دیگر علما کر رہے ہیں۔

اس سب کے باوجود طالبان اس بات سے انکاری ہیں کہ حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کے بعد سے مذاکرات کا کوئی امکان باقی ہے۔ دوسری جانب مذاکرات کے حامی دینی رہنما اب بھی کھلے عام کہتے پائے جاتے ہیں کہ مذاکرات اب بھی ممکن ہیں، بشرطیکہ حکومت ڈرون حملے رکوا کر طالبان کو تحفظ فراہم کرے۔

اسی بارے میں