مشرف کی صحت، رپورٹ پانچ جنوری کو ملے گی

Image caption ہسپتال کی ڈاکٹروں کی ٹیم رپورٹ پانچ جنوری کو دے گی

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے جمعہ کو دوسرے دن بھی راولپنڈی میں فوج کے ادارے برائے امراض قبل کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں گزارا۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق جنرل مشرف کو ہفتے کو انتہائی نگداشت کے یونٹ سے کمرے میں منتقل کر دیا جائے گا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سات ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے سابق صدر کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔

راولپنڈی میں پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے ہپستال کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پانچ جنوری کو جنرل ریٹائرڈ مشرف کی طبی رپورٹ وصول ہو جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ غداری کے مقدمے میں سابق صدر کا دفاع کرنے والی وکلا کی قانونی ٹیم اس رپورٹ کو عدالت میں پیش کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ قانونی ٹیم عدالت کے سامنے یہ موقف اختیار کرے گی کہ سابق صدر کی علالت کے بارے میں ملک کے اعلیٰ ترین معالجین کی یہ رائے ہے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ عدالت ملک کے اعلیٰ ترین ڈاکٹروں کی رپورٹ کوچیلنج نہیں کر پائے گی۔

Image caption عدالت طبی رپورٹ کی روشنی میں مقدمے کی اگلی سماعت کا فیصلہ کرے گی

احمد رضا قصوری نے مزید کہا کہ اگر ڈاکٹروں کی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ صدر مشرف کا علاج ملک میں ممکن نہیں ہے اور انھیں ملک سے باہر جانا پڑے گا تو پھر انھیں باہر جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

سابق صدر کے وکیل نے کہا کہ کہ ان کے موکل کا موقف ہے کہ یہ ان کا ملک ہے۔ اس ملک میں چالیس برس انھوں نے فوج کی خدمت کی کارگل سمیت تین جنگوں میں شرکت کی اور یہ ان کا گھر اور وہ اپنا گھر کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کو غداری کے مقدمے میں اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے سامنے پیشی کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

غداری کے الزام میں سابق صدر پر مقدمہ چلانے کے لیے جو خصوصی عدالت بنائی گئی ہے اس میں وہ ایک مرتبہ بھی پیش نہیں ہوئے ہیں۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ اگر مشرف جمعرات کو بھی اس عدالت میں پیش نہ ہوئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے۔

جمعرات کو عدالت کو جب یہ اطلاع دی گئی کہ پرویز مشرف کو عدالت آتے ہوئے راستے میں دل کی تکلیف ہو گئی تو عدالت نے ان کے ورانٹ گرفتاری جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت چلائے جانے والے اس مقدمے میں ایک مرتبہ فردِ جرم عائد ہونے کے بعد ملزم کی ضمانت نہیں ہو سکے گی۔

آئین کے آرٹیکل چھ کے چلائے جانے والے مقدمے کی کم سے کم سزا عمر قید ہے۔

اسی بارے میں