جنرل مشرف کے ملک سے جانے کی قیاس آرائیاں

Image caption فوج کے ادارۂ امراض قلب میں بین الاقوامی معیار کے مطابق علاج کیا جاتا ہے

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو عدالت جاتے ہوئے راستے میں پیدا ہونے والی دل کی تکلیف کے علاج کے لیے بیرون ملک چلے جانے کی قیاس آرائیوں کا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔

انھی قیاس آرائیوں کے درمیان ہی سعودی وزیر خارجہ کی سنیچر کو پاکستان آمد کی خبر کے ساتھ ہی افواہ ساز فیکٹری کی پیداوار میں شدت پیدا ہو گئی۔ ہر ٹی وی ٹاک شو اور اخبار میں یہی خبر زیر بحث ہے۔

ڈان نیوز نے پرویز مشرف کی صحت کے بارے میں ہسپتال کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ جنرل مشرف کے دل کی تین شریانیں بند ہیں اور اس وجہ سے ان کو اینجیوپلاسٹی کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔

جنرل مشرف کو غداری کے مقدمے میں خصوصی عدالت میں پیشی کے لیے بدھ کے روز اپنے فارم ہاؤس سے عدالت جاتے ہوئے راستے میں دل کی تکلیف پیدا ہو گئی تھی اور انھیں عدالت کے بجائے فوج کے ادارے برائے امراض قلب لے جایا گیا تھا۔

ڈان نیوز نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ مشرف کو خون پتلا کرنے کی دوائیں دی جا رہی ہیں۔

ہسپتال ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پرویزمشرف شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے سینے میں درد اٹھا۔

ان قیاس آرائیوں کے تناظر میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگائے۔

یہ درخواست لال مسجد آپریشن کے متاثرین کی تنظیم کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔

Image caption ہسپتال کے ذرائع پرویز مشرف کی حالت کے بارے میں کچھ نہیں بتا رہے

سعودی وزیر خارجہ پرنس سعود الفیصل بن عبدالعزیر السعود کی پاکستان آمد کے تناظر میں کی جانے والی قیاس آرائیوں کی حکومت نے سختی سے تردید کی ہے اور وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ کا دورہ اس سارے معاملے سے بہت پہلے طے کیا گیا تھا۔

حکومتی وضاحتوں اور تردیدوں کے باوجود ذرائع ابلاغ میں بڑی شد و مد سے یہ کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب نے جس طرح نواز شریف کو پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں ملک سے نکلنے میں مدد کی تھی، اسی طرح ایک مرتبہ پھر سعودی عرب نواز شریف کو پرویز مشرف کو ملک سے جانے کی اجازت دینے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

ملک کے انگریزی زبان کے اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جنرل ریٹائرڈ مشرف کسی خفیہ معاہدے کے تحت ملک سے چلے جائیں گے اور یہ خفیہ معاہدہ کرانے میں ’بیرونی طاقتیں‘ سرگرم ہیں۔

ملک کے ایک اور انگریزی روزنامے ڈان کا کہنا ہے کہ کیونکہ مشرف نے اس سے پہلے کبھی دل کی تکلیف کی شکایت نہیں کی، اس وجہ سے ان الزامات نے زور پکڑ لیا ہے کہ وہ مقدمے سے بچنے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

روزنامہ پاکستان ٹوڈے نے شہ سرخی لگائی ہے ’سعودی روابط ہمیشہ کام کر جاتے ہیں۔‘ تاہم اخبار نے اپنے اداریے میں خیال ظاہر کیا ہے کہ مضبوط عدلیہ کے ہوتے ہوئے سابق فوجی آمر کا ملک سے باہر چلے جانا آسان نہ ہوگا۔

سیاسی مخالفین اس صورت حال سے محظوظ بھی ہو رہے ہیں اور طنز بھی کر رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد نے سابق فوجی حکمران کو’بزدل‘ ہونے کا طعنہ دیا ہے۔

قانونی ماہرین کی رائے ہے کہ دوران مقدمہ اگر کسی ملزم کی طبیعت خراب ہو جائے تو اس صورت میں عدالت ملزم کی صحت یابی تک مقدمے کی سماعت کو موخر اور ملزم کو مناسب علاج فراہم کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومتی وزرا بھی اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ لیکن بعض مبصرین کی رائے میں موجودہ حکومت کے لیے یہ معاملہ گلے میں پھنسی ہڈی کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

اگر حکومت مشرف کو باہر جانے کی اجازت دیتی ہے تو اسے شدید سیاسی تنقید کا سامنا کرنے پڑے گا۔ بصورت دیگر انھیں اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی آسان نہیں ہے۔

اسی بارے میں