’ایک نگاہ سے نہیں دیکھتے تو سندھ1 اور سندھ2 بنا دیں‘

Image caption قومی عوامی تحریک نے الطاف حسین کے مطالبے کے خلاف ہڑتال کی کال دی ہے

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے کہا ہے کہ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کے لیے صوبہ سندھ ون اور جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی ان کے لیے صوبہ سندھ ٹو بنا دیں۔

لندن سے کراچی میں ایک جلسے سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شہری سندھ کی عوام نمبر ٹو بننے کو تیار ہیں۔

’سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریں اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑ دیں کہ اپنے عوام کی ترقی و خوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یا صوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔‘

لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے سربراہ نے اس سے پہلے حیدرآباد میں جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ شہری سندھی آبادی پسند نہیں ہے تو پھر اردو بولنے والے سندھی آبادی کے لیے علیحدہ صوبہ بنایا جائے۔

الطاف حسین کے بیان پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پہلا رد عمل سامنے آیا جس میں انھوں نے سندھ کے ٹالپور حکمرانوں کے فوجی جرنل ہوش محمد شیدی کا مشہور نعرہ تحریر کیا کہ ’مر جائیں گے مٹ جائیں گے لیکن سندھ کسی کے ہاتھوں میں جانے نہیں دیں گے‘۔

بعد میں سندھ کی قوم پرست جماعتوں کا بھی سخت رد عمل سامنے آیا اور سنیچر کے روز کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے، ہڑتال اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے سنیچر کو وضاحتی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ الطاف حسین نے سندھ کی نہیں بلکہ وسائل کی تقسیم کی بات کی تھی۔

کراچی میں اتوار کو جلسے سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ حیدرآباد کے جلسے میں انھوں نے یہ کہا تھاکہ اگر پیپلزپارٹی، سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کوقبول نہیں کرتی، انہیں برابر کا سندھی شہری نہیں سمجھتی اور ان کے جائز حقوق اس لیے نہیں دینا چاہتی کہ وہ اپوزیشن میں ہیں تو ایسی صورت میں وہ شہری سندھ کے سندھیوں کا علیحدہ صوبہ بنا دیں اور انھوں نے یہ ہرگز نہیں کہا تھا کہ سندھ کو تقسیم کر دیں۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی والے سندھ بھر کے عوام کو ایک نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے تو پھر بہتر یہ ہوگا کہ سندھ کو سندھ ہی رہنے دیں۔ پیپلزپارٹی کے سندھی عوام کے لیے صوبہ سندھ ون اور جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی ان کے لیے صوبہ سندھ ٹو بنا دیں۔

شہری سندھ کے عوام نمبر ٹو بننے کو تیار ہیں، سندھ ون اور سندھ ٹو، دونوں سندھ دھرتی کی خدمت کریں اور یہ فیصلہ دنیا پر چھوڑ دیں کہ اپنی عوام کی ترقی وخوشحالی میں صوبہ سندھ ون آگے ہے یا صوبہ سندھ ٹو بازی لے گیا۔

ایم کیو ایم کے سربراہ نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انھوں نے اپنے عمل سے اعلان کر دیا ہے کہ وہ صوبہ سندھ نمبر ون کے مالک ہیں اور شہری سندھ میں بسنے والے غریب مہاجر، بلوچ، سندھی، پنجابی، پختون ، سرائیکی اور کشمیری عوام جنھیں پیپلزپارٹی سندھی تسلیم نہیں کرتی وہ سب مل کر صوبہ سندھ ٹو میں رہ لیں گے۔

’آپ صوبہ سندھ ون میں مزے اڑائیں لیکن خدارا، ہمیں صوبہ سندھ ٹو میں جینے کا حق دے دیں۔‘

دریں اثنا قومی عوامی تحریک کی جانب سے متحدہ کے سربراہ الطاف حسین کے علیحدہ صوبے کے بیان کے خلاف پیر کو سندھ میں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔

تنظیم کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علما پاکستان، جئے سندھ قومی محاذ، عوامی نیشنل پارٹی، سنی تحریک اور لیاری بزرگ کمیٹی نے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ایاز پلیجو کا کہنا تھا کہ اگر الطاف حسین اپنے بیان پر سندھ اور پاکستان کی عوام سے معذرت کرتے تو وہ ہڑتال کا اعلان واپس لے لیتے لیکن کراچی کے جلسے میں اپنے خطاب میں الطاف حسین نے اپنے ناجائز مطالبے کو جائز قرار دینے کی کوشش کی جس کی وجہ سے وہ پرامن ہڑتال کے اعلان پر قائم ہیں۔

دوسری جانب سندھی رائٹرز اور تھنکرز فورم کی جانب سے پیر کو کراچی میں دو تلوار سے برطانوی ہائی کمیشن تک مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ ہائی کمشنر کو یادداشت نامہ پیش کیا جائے گا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لوگوں کو بھڑکانے کے الزام میں الطاف حسین کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اسی بارے میں