پولیو مہم کے لیے خاصہ دار فورس کی خدمات

Image caption گذشتہ دنوں ہی انسدادِ پولیو کی مہم سے وابستہ ایک کارکن کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں انسداد پولیو مہم کے رضاکاروں کے حملوں کے خوف سے مہم چلانے سے انکار کے بعد حکام نے یہ ذمے داری خاصہ دار فورس اور لیویز اہل کاروں کو دے دی ہے۔

دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان ایجنسی، جنوبی وزیرستان کے بعض علاقے اور نیم قبائلی علاقے ایف آر بنوں میں مسلسل کشیدگی کی وجہ سے پولیو سے بچاؤ کی مہم اس بار بھی شروع نہیں ہو سکے گی۔

خیبر ایجنسی میں اب قانون نافذ کرنے والے اہل کار لیویز اور خاصہ دار فورس بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

اس مقصد کے لیے لیویز اور خاصہ دار فورس کے 200 اہل کاروں کو قطرے پلانے کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔

خیبر: پولیو کارکنوں کا مہم میں شرکت سے انکار

خیبر ایجنسی کی تحصل لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ میں تقریباً 400 رضا کار اب تک یہ ڈیوٹی سرانجام دیتے تھے۔

قبائلی علاقوں میں کشیدہ صورتِ حال کی وجہ سے پولیو کے وائرس کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا اور یہاں سے آئے روز بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوتی رہتی ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو مہم چند روز کے لیے خیبر ایجنسی میں ملتوی کر دی گئی ہے۔ انسداد پولیو مہم کے حوالے سے ایجنسی کی سطح پر انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

پیر کو انسدادِ پولیو مہم کے رضاکاروں، محکمۂ صحت فاٹا کے حکام اور پولیٹکل انتظامیہ کے حکام کے مذاکرات ہوئے ہیں۔

Image caption عمران خان نے گذشتہ دنوں خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کےافتتاح کے دوران کہا تھا کہ انسدادِ پولیو مہم کے کارکنان کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف ہے جس کی وجہ سے بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے

حکام کے مطابق انسداد پولیو مہم 400 کے قریب رضا کاروں نے حملوں کے خوف کی وجہ سے خیبر ایجنسی میں انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔

خیبر ایجنسی میں گذشتہ سال نومبر اور دسمبر میں انسداد پولیو مہم کے رضا کاروں پر حملے کیے گئے تھے۔ دسمبر میں ایک حملے کے وقت رضا کاروں کو اس مہم سے دور رہنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

اس صورتِ حال سے خیبر ایجنسی میں ڈیڑھ لاکھوں بچے انسداد پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ سکتے ہیں، اس لیے اب خاصہ داروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ خاصہ دار مقامی پولیس کے اہل کار ہوتے ہیں جو قبائلی علاقوں میں کام کرتے ہیں۔

فاٹا میں انسداد پولیو کے ادارے کے عہدیدار ڈاکٹر احسان الحق نے بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے 200 کے لگ بھگ خاصہ داروں کو تربیت فراہم کر دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں کوئی زیادہ مہارت کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے یہ اہل کار یہ ڈیوٹی اسانی سے سرانجام دے سکتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس عمل میں نگرانی اور ریکارڈ بحال کرنا ہوتا ہے اور یہ ریکارڈ بحال رکھنے کا مکمل طریقہ کار ہوتا ہے جسے خاصہ دار فورس کے اہل کار مکمل نہیں کر پائیں گے۔

حکام نے بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت کے حکام ان اہل کاروں کی معاونت کے لیے موجود ہوں گے اور جہاں کی ضرورت ہوگی تو ادارے کے عہدےدار ان کی مدد کریں گے۔

فاٹا میں انسداد پولیو کے ادارے کے عہدےدار ڈاکٹر احسان الحق نے بتایا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی، جنوبی وزیرستان کے بعض علاقے اور نیم قبائلی علاقے ایف آر بنوں میں مسلسل کشیدگی کی وجہ سے پولیو سے بچاؤ کی مہم اس بار بھی شروع نہیں ہو سکے گی۔

ان علاقوں میں شدت پسند تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے گذشتہ سال بھی پولیو مہم پہلے ہی شروع نہیں ہو سکی تھی۔

اسی بارے میں