پرویز مشرف ہسپتال جا چھپے ہیں: وکیلِ استغاثہ

Image caption پرویز مشرف کے وکلا کے مطابق انہیں عدالت آتے ہوئے راستے میں دل کی تکلیف ہوئی تھی

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے بیماری کی وجہ سے اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے اور آئندہ سماعت پر آرمڈ فورس انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( اے ایف آئی سی) کے سپرنٹینڈنٹ سے ملزم پرویز مشرف کی صحت سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ چونکہ پرویز مشرف نے اس مقدمے میں وکلا کی خدمات بھی حاصل کی ہیں اور انھوں نے اپنی رہائش گاہ بھی تبدیل نہیں کی اس لیے اُن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کیے جا رہے۔

’فوجی پر مقدمہ صرف فوجی عدالت میں چل سکتا ہے‘

اندازہ نہیں تھا کہ غداری کا مقدمہ چلے گا: مشرف

عدالت نے پرویز مشرف کو چھ جنوری کو عدالت میں حاضری سے متعلق استثنٰی بھی دے دیا تاہم عدالت نے اپنے حکم نامے میں یہ واضح کیا ہے کہ ملزم کے وکلا کی جانب سے پرویز مشرف کی صحت سے متعلق کوئی رپورٹ عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں خصوصی عدالت میں سابق فوجی صدر کے خلاف غداری کے مقدمے میں چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ کا کہنا ہے کہ عدالت محض بیماری کے عنصر کو لے کر اس مقدمے کی کارروائی کو طوالت نہیں دے سکتی اور نہ ہی عدالت پر بیماری کی وجہ سے ملزم کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر کوئی ممانعت ہے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ ’اس سے پہلے بھی عدالت نے پرویز مشرف کو عدالت میں پیش ہونے سے متعلق دو مرتبہ سمن جاری کیے تھے لیکن اُنھوں نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا اور عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت کے اختیارات اور قانون کے تحت کسی بھی ملزم کو عدالت میں حاضری سے استثنٰی نہیں ہے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ وہ سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ میں پیش ہوتے رہے ہیں اور اُن کے موکل نے بھی عدالت میں اپنی حاضری کو یقینی بنایا تھا جبکہ اس مقدمے میں پرویز مشرف عدالتی احکامات کو خاطر میں ہی نہیں لا رہے۔

چیف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’شخصیات کو نہیں بلکہ قانون کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ دو جنوری کو پرویز مشرف عدالت میں پیش ہونے کی بجائے اے ایف آئی سی میں جا کر چھپ گئے جس پر ملزم کے وکلا نے اعتراض کیا کہ اداروں کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم پرویز مشرف کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے۔ اُنھوں نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ ’اگر پرویز مشرف کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہوتے تو عدالت ہسپتال میں کسی ذمہ دار شخص کو بھجوائے جو اُنھیں فرد جُرم پڑھ کر سُنائے۔‘

پرویز مشرف کے وکیل انور منصور نے کہا کہ جس طرح توہین عدالت کے مقدمے میں ملزم کو پہلے گرفتار نہیں کیا جاسکتا اُسی طرح غداری کے مقدمے میں بھی عدالت ملزم کی گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کر سکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ غداری سے متعلق قانون کے طریقۂ کار میں اس کی وضاحت نہیں ہے، لہٰذا ان کے موکل کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

وکیلِ صفائی نے کہا کہ غداری کا مقدمہ آئینی مقدمہ ہے، جب کہ گرفتاری کے احکامات فوجداری مقدمے میں صادر کیے جاتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ خصوصی عدالت ان کے موکل کی گرفتاری سے متعلق ایسا کوئی حکم صادر نہیں کر سکتی۔ اس مقدمے کی سماعت سات جنوری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں