’ڈر گئے تو اعتزاز کی قربانی رائیگاں چلی جائے گی‘

Image caption کلاس میں اعتزاز کی نشست پر ان کی جگہ ان کی تصویر رکھ کر جماعت ہوئی

ہنگو میں سکول پر خود کش حملے کی واردات کو ناکام بنانے والے طالبعلم حسن اعتزاز کے ہم جماعتوں اور دوستوں کا کہنا ہے کہ اگر وہ دہشت گردوں سے ڈر گئے تو اس کا مطلب ہوگا کہ اعتزاز کی قربانی رائیگاں چلی گئی اور ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے اگلے روز ایک بھی بچے ایسا نہیں تھا جو سکول میں حاضر نہ ہوا ہو۔

’اگر ہم ڈر گئے تو اس کا مطلب ہو گا کہ خود کش حملہ آور کامیاب ہو گیا اور اس (اعتزاز) نے بھی جو شہادت دی وہ ناکام ہوئی۔‘ یہ بات اعتزاز کے ایک ہم جماعت اظہر نے ہنگو سے ٹیلی فون کے ذریعے بی بی سی اردو سروس کے ریڈیو پروگرام سیربین میں ایک انٹرویو میں کہی۔

اظہر نے کہا کہ ’ان کے دوست اور ہم جماعت نے اپنی جان کی قربانی اس لیے دی ہے کہ ہم اپنی تعلیم جاری رکھیں اپنے ملک اور قوم کے لیے ایک فرما بردار فرد بن جائیں۔‘

اعتزاز کے ایک اور دوست ناعد علی سے جب یہ پوچھا گیا کہ دہشت گردی کے خوف کی وجہ سے کیا ان کے والدین ان کے آزادانہ گھومنے پھرنے سے منع تو نہیں کرتے تو انھوں نے کہا کہ ان کے گھر والے بالکل ان پر پابندیاں لگاتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کا لڑکا اس طرح مارا جائے۔

اظہر نے کہا کہ حالات خراب ہیں لیکن وہ کب تک ڈرتے رہیں گے، آخر کب تک گھروں سے نہیں نکلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ان حالات میں ضروری ہے کہ وہ بجائے ڈرنے کے گھروں سے نکلیں اور مقابلہ کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اعتزاز کی شہادت اس لیے نہیں تھی کہ وہ گھروں میں خاموش ہو کر بیٹھ جائیں اور دیکھتے رہیں۔ انھوں نے کہا ’ ہم پر لازم ہو گیا ہے کہ ہم اعتزاز کے خواب کو پورا کریں۔ اس کی قربانی کو آگے لے کر چلیں اور اس کے پیغام کو معاشرے میں پھیلا دیں۔‘

اظہر نے ملالہ یوسفزئی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملالہ کی طرح اعتزاز نے بھی ایک کارنامہ کر دکھایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے سکول کے تمام بچوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اس واردات سے ذرا خوف زدہ یا ڈرے نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بچے اس جانی نقصان پر غم زدہ ضرور ہیں لیکن ڈرے ہوئے نہیں ہیں۔

ایک اور سوال پر ماعد علی نے کہا کہ جن بچوں کو خود کش حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ان میں سے اکثر کو یا تو ڈریا دھمکایا جاتا ہے یا پھر ان کو پیسے کی لالچ دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا ہے اکثر ایسے بچوں کے والدین کو یرغمال بنا کر انھیں دھمکی دی جاتی اور خود کش حملے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اعتزاز کے بارے میں ایک سوال پر اظہر نے کہا کہ وہ ایک سادہ لوح اور ہنس مکھ لڑکا تھا اور وہ انھیں ہمیشہ یاد رہے گا۔

ناعد علی نے کہا وہ جو سانس لے رہے اور زندہ ہیں وہ اعتزاز کی وجہ سے ہے اگر اس نے خود کش حملہ آوور کو نہ روکا ہوتا تو وہ آج زندہ نہ ہوتے۔

اسی بارے میں