’طالبان نے چوہدری اسلم کو براہِ راست دھمکی دی تھی‘

Image caption چوہدری اسلم کی نمازِ جنازہ میں اعلیٰ حکام نے شرکت کی

کراچی پولیس نے ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر حملے کو ابتدائی تحقیقات میں خودکش حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دھماکے کے لیے اعلیٰ معیار کا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ادھر چوہدری اسلم کی میت کو نمازِ جنارہ کی ادائیگی کے بعد گزری کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

جمعہ کی صبح لیاری ایکسپریس وے پر جائے وقوع کے معائنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی ظفر عباس بخاری کا کہنا تھا کہ پولیس نے کچھ جسمانی اعضا تحویل میں لیے ہیں، جن کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا اور پولیس کے پاس موجود ریکارڈ سے اس کا تقابل کیا جائے گا تاکہ اصل ملزمان کا پتہ لگایا جا سکے۔

ایس ایس پی چوہدری اسلم پر خودکش حملہ: تصاویر

چوہدری اسلم خان نشانے پر کیوں؟

ظفر عباس بخاری کے مطابق پولیس کو ایک ہاتھ بھی ملا ہے جس کے فنگر پرنٹس کی شناخت رجسٹریشن کے قومی ادارے نادرا کی مدد سے کی جائے گی۔

انھوں نے اطلاع دی کہ پولیس نے حضرت بلال نامی ایک شخص کو حراست میں لیا ہے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ اس کی پیلی ٹیکسی واقعے میں استعمال کی گئی ہے۔

Image caption حملے میں چوہدری اسلم کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی

چوہدری اسلم پر حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ تنظیم نے اس حملے کو اپنے کمانڈر عارف عرف ڈاکٹر مقبول اور عبدالرحمان کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا ہے، جنھیں سی آئی ڈی پولیس نےگذشتہ سال نومبر میں چوہدری اسلم کی سربراہی میں ایک مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ڈی آئی جی ظفر عباس نے بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے چوہدری اسلم کو براہِ راست فون کر کے دھمکی دی تھی اور ان کی جانب سے پہنچائے جانے والے نقصان پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ اسی دوران دونوں میں تلخ کامی بھی ہوئی لیکن چوہدری اسلم اپنے عزم پر برقرار رہے تھے۔

ڈی آئی جی سی آئی ڈی کا کہنا تھا کہ چوہدری اسلم کو سکیورٹی فراہم کی گئی تھی، ان کی گاڑی بلٹ پروف تھی لیکن طالبان کے پاس ہر طرح چیز کا توڑ ہے، لہٰذا سکیورٹی کی کمزوری کو ذمہ دار قرار دینا ٹھیک نہیں۔

چوہدری اسلم پر حملے کی تحقیقات کے لیے آئی جی سندھ کی سربراہی میں تین کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ راجہ عمر کا کہنا ہے کہ بمبار گاڑی میں سوار تھا، جس نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی چوہدری اسلم کی گاڑی سے ٹکرا دی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے لیاری ایکسپریس وے میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔

Image caption چوہدری اسلم کو طالبان کے ترجمان نے براہِ راست فون کر کے دھمکی دی تھی

چوہدری اسلم سمیت تین پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ جمعہ کی دوپہر ادا کی گئی جس میں وزیرِاعلیٰ سید قائم علی شاہ، صوبائی وزیر شرجیل میمن، قادر پٹیل، اویس مظفر، آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ، ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات، متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر صغیر احمد، مسلم لیگ ن کے رہنما سلیم ضیا سمیت پولیس کے کئی اہلکاروں اور شہریوں نے شرکت کی۔

اس سے پہلے نمازِ جنازہ کا انتظام پولیس لائن میں کیا گیا تھا۔ پولیس ترجمان کے مطابق سکیورٹی وجوہات کے باعث گلشن اقبال میں حسن سکوائر ہیڈکوارٹر میں چار دیواری کے اندر یہ انتظام کیا گیا۔

نمازِ جنازہ کے موقعے پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے، تمام پولیس اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی گاڑیوں کو تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت تھی۔

یاد رہے کہ جمعرات کی شام ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے قافلے کو عیسیٰ نگری کے مقام پر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دفتر جا رہے تھے۔ حملے میں چوہدری اسلم سمیت تین اہل کار ہلاک ہوگئے تھے۔

ڈی آئی جی ظفر عباس بخاری کا کہنا ہے کہ چوہدری اسلم پر یہ پانچواں حملہ تھا، جس میں ملزمان کامیاب ہوگئے۔ ستمبر 2011 میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ان کی رہائش گاہ پر بھی ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چوہدری اسلم کا نام گذشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں طالبان اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں آتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ لیاری میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے تھے۔

اسی بارے میں