کراچی پولیس کی کارروائیاں جاری، تین شدت پسند ہلاک

Image caption کراچی پولیس کے خلاف شدت پسندوں نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے

کراچی میں خودکش بم حملے میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم سمیت تین پولیس اہل کاروں کی ہلاکت کے بعد پولیس اور شدت پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔

ان کارروائیوں کے دوران تین بم حملوں میں دو پولیس اہل کاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ تین مشتبہ شدت پسندوں کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

قائد آباد کے علاقے فیوچر کالونی میں جمعے کی صبح عوامی نیشنل پارٹی کے مقامی رہنما عبدالعزیز کے گھر پر حملہ کیا گیا، جس میں وہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ کچھ ہفتے قبل انھیں تحریک طالبان نے 50 لاکھ روپے چندہ دینے کے لیے ٹیلی فون کیا تھا، لیکن انھوں نے صاف انکار کردیا، جس کے بعد سے انھیں دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔

اس دستی بم حملے کے چند گھنٹوں کے بعد ملیر کے علاقے ملت ٹاؤن میں ایک مسجد کے باہر دھماکہ ہوا، جس میں موذن سمیت تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیسی ساخت کا بم قرآنی آیات کے ڈبے میں رکھا گیا تھا۔

بلدیہ ٹاؤن کے علاقے مشرف کالونی میں نامعلوم افراد نے ایک پولیس موبائل پر دستی بم سے حملہ کیا ہے، جس میں دو پولیس اہل کار زخمی ہوگئے۔ بلدیہ پولیس کے مطابق جوابی فائرنگ میں تین شدت پسند مارے گئے۔

پولیس کا کہنا ہےکہ ہلاک ہونے والے مبینہ ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان سے ہے۔ پولیس نے مشتبہ ملزمان کی شناخت امان اللہ، شیر محمد اور مرزا علی کے نام سے کی ہے۔

پولیس نے ملزمان سے کلاشنکوف، دو ہلکی مشین گنیں، تین ٹی ٹی پستول اور دو دستی بم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں میں کراچی پولیس نے کالعدم تحریک طالبان کے چھ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 80 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاؤن اور منشیات کے کاروبار میں ملوث ملزمان بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں