پاکستان کے’غیر محفوظ‘ بچے

Image caption شاید بہتر ہوتا کہ وہ سڑکوں سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے بیچتی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں اس کو موت کی جانب بھیج رہی ہوں: ارم کی والدہ زبیدہ بی بی

چند روز قبل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں دس سالہ ملازمہ ارم رمضان کی اپنی مالکن کے ہاتھوں تشدد کے بعد ہلاکت کے واقعے نے ملک میں ایک بار پھر بچوں کے حقوق کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔

لیکن معاشرے میں موجود یہ گھمبیر مسئلہ ایک ہی رات میں حل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک میں نصف سے زیادہ آبادی 18 سال کی عمر سے کم افراد کی ہے لیکن بچوں کو ہراساں کرنے کے حوالے سے لیبر قوانین میں کوئی شق موجود نہیں ہے۔

مزدوروں کے قوانین میں بچوں کے حقوق کے بارے میں شق نہ ہونے کے نتائج نہایت سنگین نکلتے ہیں اور اس کا ایک ثبوت پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں موجود ہے۔

اس گاؤں کا ویسے تو نام جند رکھاں ہے لیکن اس میں واقع ایک کچے مکان سے سسکیوں اور رونے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ یہ مکان ہلاک ہونے والی ملازمہ ارم رمضان کا ہے۔

ارم کی دو بہنوں کی طرح جو مختلف لوگوں کے ہاں کام کرتی ہیں، ارم رمضان کو بھی لاہور کے ایک متوسط طبقے کے خاندان کے ہاں کھانا بنانے کے لیے بھیجا گیا تھا تاکہ ان کے خاندان کا چولھا جلتا رہے۔

لیکن ارم پر اس کی مالکن نے اس قدر تشدد کیا اور وہ سفید چادر میں لپٹی اپنے گھر واپس آئی۔

ارم رمضان کے والد فوت ہو چکے ہیں اور ان کی والدہ زبیدہ بی بی ایک حادثے میں ایک ہاتھ سے معذور ہو گئی تھیں۔

زبیدہ بی بی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں سے لوگوں کے ہاں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کروائیں۔

ان کا یہ بھی خیال تھا کہ کھاتے پیتے گھرانوں میں ان کی بیٹیاں زیادہ محفوظ ہوں گی۔ لیکن وہ غلط تھیں اور ان کو اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کو دفنانا پڑا۔ لیکن ان کو اب پچھتاوا ہے کہ انھوں نے اپنی بیٹی کو کام کرنے کے لیے کیوں بھیجا۔

Image caption اس نے تین بار میرے پیسے چوری کیے۔ بس مجھے غصہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اس کو نیند آ رہی ہے تو اس کو میں نے باندھ دیا اور خود کھانا پکانے چلی گئی: ناصرہ محمود

’شاید بہتر ہوتا کہ وہ سڑکوں سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے بیچتی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ میں اس کو موت کی جانب بھیج رہی ہوں۔‘

گذشتہ سال کے آخر میں زبیدہ بی بی کو لاہور سے ان کے دور کے رشتہ دار کا فون آیا جنھوں نے ان کو فوری طور پر لاہور کے ہسپتال پہنچنے کا کہا۔

ہسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ مردہ حالت میں ہسپتال لائی گئی تھی۔ ارم کے پورے جسم پر تشدد کے نشانات تھے اور کلائیوں اور پیروں میں رسیوں کے نشان پڑے ہوئے تھے۔

ارم محمود خاندان کے ہاں گھریلو ملازمہ تھی اور وہی اس کو ہسپتال لے کر آئے تھے اور پولیس نے ان کو تحویل میں لے لیا۔

ارم کو لوہے کی سلاخ سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ یہ سلاخ اور وہ رسیاں جن سے دس سالہ لڑکی کے ہاتھ اور پاؤں باندھے گئے، پولیس نے محمود کے مکان سے برآمد کی۔

ناصرہ محمود نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے بچی پر سلاخ سے تشدد کیا جب کہ اس کا 16 سالہ بیٹا وہاں کھڑا دیکھ رہا تھا۔

جیل میں ناصرہ محمود چائے اور بسکٹ کھا رہی تھیں۔ جب ان سے پوچھا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا تو انھوں نے بغیر کسی ندامت کے کہا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ مر جائے گی۔

’اس نے تین بار میرے پیسے چوری کیے۔ بس مجھے غصہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اس کو نیند آ رہی ہے تو اس کو میں نے باندھ دیا اور خود کھانا پکانے چلی گئی۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات سے معلوم چلا ہے کہ ارم کی موت حادثہ نہیں تھی بلکہ آہستہ آہستہ ہوئی ہے جب وہ بندھی ہوئی تھی۔

پولیس سپرنٹینڈنٹ عمر چیمہ نے بتایا: ’انھوں نے فوراً اعتراف کر لیا کہ انھوں نے اس لڑکی پر تشدد کیا تھا۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشان اور سوجن تھی جن سے معلوم چلا کہ اس لڑکی کو کسی بھاری چیز سے مارا گیا ہے۔ وہ آلہ گھریلو گیس پائپ تھا۔‘

محمود خاندان ارم کو 2400 روپے ماہانہ دیا کرتے تھے۔

Image caption بچوں کی تحفظ کے لیے جو قوانین موجود ہیں ان پر عمل درآمد نہیں کرایا جا رہا کیونکہ کام کرنے والے بچوں کی نگرانی کے لیے کوئی انتظامی ڈھانچہ موجود نہیں ہے: سپارک کے نمائندے سجاد چیمہ

جس ہفتے ارم کی موت ہوئی اسی ہفتے لاہور ہی میں ایک 15 سالہ گھریلو ملازمہ عذرا کی لاش اس کے مالکان کے مکان سے ملی۔ عذرا کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سپارک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ہر سال 20 کے قریب ارم اور عذرا جیسے کیس آتے ہیں۔ یہ کیس وہ ہیں جن میں ایک بچی یا بچے کی موت ہو گئی ہو۔ ان کے علاوہ زیادتی اور تشدد کے کئی کیس آتے ہیں جو کہ رپورٹ نہیں کیے جاتے۔

سپارک کے نمائندے سجاد چیمہ کا کہنا ہے کہ بچوں کی تحفظ کے لیے جو قوانین موجود ہیں ان پر عمل درآمد نہیں کرایا جا رہا کیونکہ کام کرنے والے بچوں کی نگرانی کے لیے کوئی انتظامی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

سجاد کا مزید کہنا تھا: ’اقوام متحدہ نے حکومتِ پاکستان کو چائلڈ پروٹیکشن پالیسی اپنانے کی تجویز دی ہے۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ آیا ہم بچوں کو اسی حالت میں کام کرنے دیں گے یا ہلاک کردیا جائے گا یا پھر ہم ان کو تحفظ فراہم کریں گے اور کیسے کریں گے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روزی کے لیے ایک کروڑ بیس لاکھ بچے یا تو سڑکوں پر یا پھر اجنبیوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

ان کی حفاظت کے قانون کی عدم موجودگی میں ان کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتا ہے کسی کو نہیں معلوم۔

اسی بارے میں