’پولیس کا خوف‘: آٹھ افراد دریائے سندھ میں بہہ گئے

کشمور
Image caption علاقے سے آنے ولے ایک صحافی نے دیکھا کہ کچے گھر مسمار تھے، جن میں سے کچھ کو نذر آتش بھی کیا گیا تھا

پاکستان کے صوبہ سندھ میں پانچ بچوں سمیت آٹھ افراد دریائے سندھ میں ڈوب گئے ہیں، جن میں سے دو بچوں کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بچے اور خواتین پولیس کے خوف کی وجہ سے پانی میں اتر گئے۔

تاہم پولیس حکام نے ان الزامات کومسترد کرتے ہوئے انھیں ہالی وڈ فلم کا سین قرار دیا ہے۔

یہ واقعہ کندھ کوٹ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور کچے کے علاقے امداد بھنگوار میں پیش آیا ہے۔

دریا کے کنارے لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف نیاز بھنگوار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی شب پولیس نے دس گھروں پر مشتمل گاؤں امداد بھنگوار پر چڑھائی کر دی، جس کے دوران ایک توپ نما بکتر بند گاڑی سے گھروں کو مسمار کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ چھاپے سے پہلے ہی مرد گھروں سے نکل گئے تھے، صرف خواتین اور بچے گھروں میں موجود تھے، جن کو پولیس نے ہراساں کیا۔

’پولیس کے خوف سے یا اپنے عزت بچانے کے لیے خواتین اپنے بچوں کو لے کر دریا میں اتر گئیں، جہاں پانی زیادہ تھا، جس میں وہ ڈوب گئیں۔ صبح کو ایک چار سالہ بچے آصف کی لاش نکالی گئی ہے، جبکہ باقی تاحال لاپتہ ہیں۔‘

پیر کو امدادی کارروائیوں میں سات سالہ اقبل کی لاش بھی برآمد کر لی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ تین خواتین اور پانچ بچے ڈوب گئے ہیں، جن میں مسمات ماروی زوجہ بشیر احمد، آصف ولد بشیر احمد، شہناز زوجہ گلاب ان کے بیٹے زاہد حسین اور مقصود احمد اور مسمات مانجھو زوجہ نادر علی شامل ہیں۔ ان کے مطابق بچوں کی عمریں چار سے سات سال کے درمیان ہیں۔

تاہم اس معاملے میں پولیس کا موقف مختلف ہے۔ ایس ایس پی کندھ کوٹ یونس چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کے وقت ایک کشتی لوگوں کو دریا کے دوسرے پار لے کر جارہی تھی جو ڈوب گئی:

Image caption مقامی افراد کے مطابق خواتین اور بچوں کو اندازہ نہیں تھا کہ پانی 15 فٹ تک گہرا ہے

’ابتدائی معلومات کے مطابق کشتی کی حالت صحیح نہیں تھی اور اس میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے جبکہ پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کے باعث کشتی توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور الٹ گئی، جس کے نتیجے میں پانچ سے آٹھ لوگ گر گئے جن میں سے اب تک ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ دیگر لوگوں کی تلاش جاری ہے، نیوی کے غوطہ خوروں کی بھی مدد طلب کرلی گئی ہے، تاہم کشتی مل گئی ہے۔

متاثرہ علاقے کے گاؤں کے پاس موجود ایک اور شخص مبارک بھنگوار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پولیس ڈراما رچا رہی ہے، وہاں کوئی کشتی نہیں تھی، علاقے میں 15 سے 20 فٹ پانی موجود ہے جس کا بچوں اور خواتین کو اندازہ نہیں تھا۔‘

ایس ایس پی یونس چانڈیو کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ گذشتہ شب رات کو بارہ بجے پیش آیا: ’پولیس کے چھاپے کا الزام بے بنیاد ہے، یہ صورتحال ہالی ووڈ فلم کا کوئی سین لگتی ہے جس میں پولیس کے خوف کی وجہ سے لوگ دریا میں کود پڑے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پولیس کے جس خوف کی گاؤں والے بات کر رہے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ چار روز پہلے ایک سپاہی ہلاک ہو گیا تھا جس کے قتل میں اسی گاؤں کے تین لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے۔‘

ایس ایس پی کے مطابق دو روز پہلے ایک چھاپہ مارا گیا تھا، جس میں انھیں مطلوبہ ملزمان نہیں مل سکے تھے، اب گاؤں والوں کا یہ موقف سامنے آ رہا ہے کہ اس چھاپے کی وجہ سے وہ خوفزدہ تھے اور انھیں یہ ڈر تھا کہ پولیس دوبارہ چھاپا مارے گی اس لیے رات کو اپنے خاندان کو دریا کے دوسری پار منتقل کر رہے تھے، جہاں ان کے دیگر رشتے دار رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ کچے کے علاقے میں سورج غروب ہونے کے بعد عام طور پر نقل و حرکت محدود ہوجاتی ہے، ایسے میں خواتین اور بچوں کا رات کی تاریکی میں سفر کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ فرض کر لیں کہ کسی نے انھیں اطلاع دی ہو کہ رات پولیس دوبارہ چھاپہ مار سکتی ہے، موبائل فون سروس کے بعد کمیونیکیشن آسان ہوگئی ہے، وہ رات کو نکل گئے ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ گاؤں والوں کے الزام کو بالکل مسترد نہیں کرتے، اس لیے تحقیقات کے لیے ڈی ایس پی کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ گاؤں کا دورہ کر کے آنے والے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ کچے گھر مسمار تھے، جن میں سے کچھ کو نذرِ آتش بھی کیا گیا تھا۔ اس صحافی کا کہنا تھا کہ انھیں ایک بچے کی لاش بھی دکھائی گئی۔ گاؤں والوں کا موقف ہے کہ اب تک سات سے زائد افراد لاپتہ ہیں، تاہم انھوں نے وہ کشتی نہیں دیکھی جس کا پولیس ذکر کر رہی ہے۔

ڈی ایس پی اصغر علی شاہ کا اس صورتحال کو ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ جو لوگ خواتین اور بچوں کے ڈوبنے کا ڈرامہ کرسکتے ہیں وہ گھروں کو بھی نذرِ آتش کرسکتے ہیں۔

متاثرین نے دریا سے برآمد ہونے والی دونوں بچوں کی لاشوں سمیت انڈس ہائی وے پر احتجاجی دھرنا دے دیا ہے۔

اسی بارے میں