’پولیس کا خوف‘:ڈوبنے والی خاتون کی لاش برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دریا کی تہہ غیر ہموار ہونے کی وجہ سے لاشوں کی تلاش میں مشکلات درپیش ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں مبینہ طور پر پولیس کے خوف کی وجہ سے دریا میں اترنے اور پھر ڈوبنے والے افراد میں شامل ایک خاتون کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔

یہ واقعہ پیر کو کندھ کوٹ سے تقریبا چالیس کلومیٹر دور کچے کے گاؤں امداد بھنگوار میں پیش آیا تھا جب پانچ بچوں سمیت آٹھ افراد دریائے سندھ میں ڈوب گئے تھے۔

ڈوب جانے والے باقی پانچ افراد کی تلاش کے لیے پاکستانی بحریہ کے غوط خور بھی منگوائے گئے ہیں۔ اب تک ملنے والی تینوں لاشیں مقامی غوطہ خوروں نے نکالی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ دریا کی تہہ کی زمین غیر ہموار ہے جس وجہ سے دیگر لاشوں کی تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اس گاؤں کے رہائشی برکت بھنگوار نامی شخص نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بدھ کی شام مانجھو نامی خاتون کی لاش نکالی گئی جبکہ اس سے پہلے چار سالہ آصف اور سات سالہ اقبال کی لاشیں مل چکی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد دو ایس ایچ اوز سمیت بیس کے قریب اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے، جن میں سے ایک ایس ایچ او کو معطل کیا گیا جبکہ دیگر اہلکار بدستور ڈیوٹیوں پر موجود ہیں۔

بدھ کو اس واقعے میں متاثر ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ نے مانجھو کی لاش سمیت دوبارہ انڈس ہائی وے پر دھرنا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ایک سپاہی کے قتل کے بعد تو کارروائی کی لیکن تین افراد کی لاشیں ملنے اور پانچ کے تاحال لاپتہ ہونے کے باوجود پولیس اہلکاروں کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی جا رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس واقعے کے بعد دو ایس ایچ اوز سمیت بیس کے قریب اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا ہے

ان افراد کے دریا میں ڈوبنےکے واقعے کے بارے میں متضاد موقف سامنے آئے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے گاؤں پر چھاپے کے دوران خواتین اور بچوں کو ہراساں کیا اور ’پولیس کے خوف سے یا اپنے عزت بچانے کے لیے خواتین اپنے بچوں کو لے کر دریا میں اتر گئیں ، جہاں پانی زیادہ تھا، جس میں یہ لوگ ڈوب گئے۔‘

ادھر ایس ایس پی کندھ کوٹ یونس چانڈیو کا موقف ہے کہ رات کے وقت ایک کشتی لوگوں کو دریا کے پار لے جا رہی تھی اور اس میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے۔ ان کے مطابق پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کے باعث کشتی توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور الٹ گئی، جس کے نتیجے میں پانچ سے آٹھ لوگ دریا میں گر گئے۔

انھوں نے پولیس کے چھاپے کے الزام کو بےبنیاد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ’پولیس کے جس خوف کی گاؤں والے بات کر رہے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ چار روز پہلے ایک سپاہی ہلاک ہو گیا تھا جس کے قتل میں اسی گاؤں کے تین لوگوں کو اس میں نامزد کیا گیا ہے۔‘

ایس ایس پی کے مطابق دو روز پہلے ایک چھاپا مارا گیا تھا، جس میں انہیں مطلوبہ ملزمان نہیں مل سکے تھے اور گاؤں والوں کا یہ موقف سامنے آ رہا ہے کہ اس چھاپے کی وجہ سے وہ خوفزدہ تھے اور یہ ڈر تھا کہ پولیس دوبارہ چھاپہ مارے گی اس لیے وہ رات کو اپنے خاندان کو دریا پار منتقل کر رہے تھے، جہاں ان کے دیگر رشتے دار رہتے ہیں۔

اسی بارے میں