بلدیاتی انتخابات ملتوی: لاکھوں امیدوار مایوس

Image caption بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں تھیں جس میں چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں افراد براہ راست امیدوار ہوتے ہیں

’انشاء اللہ چیئرمین، ظفر راجپوت، امیدوار برائے یونین کونسل 136 لاہور‘

ایسے بورڈ اور بینر لگانے والے یہ واحد بلدیاتی امیدوار نہیں ہیں بلکہ ہزاروں لاکھوں امیدوار آنکھوں میں چیئرمین، کونسلر منتخب ہونے کا خواب سجائے میدان میں اتر چکے تھے۔ یہ تمام افراد پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوئے ہیں۔

صرف پنجاب میں پونے دو لاکھ امیدوار انتخابی کاغذات جمع کرانے کے بعد انتخابی مہم میں مصروف تھے لیکن سپریم کورٹ سے اجازت ملنے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے فیصلے نے ان کی امیدوں پر ٹنوں ٹھنڈا پانی انڈیل دیا ہے۔

جو کوئی بھی زندگی میں کوئی ایک الیکشن لڑ چکا ہے وہ بخوبی جانتا ہے کہ ان امیدواروں پر کیا بیتی ہوگی۔ وہ جانتے ہیں کہ الیکشن میں امیدوار کی زندگی اور شخصیت کیسے 180 ڈگری پر تبدیل ہو جاتی ہے۔

بات صرف مال و دولت اور اس وقت کی نہیں ہوتی جو الیکشن مہم میں صرف ہوتا ہے بلکہ معاملہ اس سے کہیں آگے کا ہوتا ہے۔

دوستیاں، یاریاں، رشتہ داریاں کھل کر سامنے آتی ہیں۔دوست دشمن نکلتے ہیں اور دشمن دوست ثابت ہوتے ہیں جن کی اپنے تئیں بہت اہمیت ہوتی ہے وہ حقیقت میں ناکارہ ثابت ہوتے ہیں اور جن کو کبھی اہمیت نہیں دی ہوتی ان کے بارے میں انکشاف ہوتا ہے کہ وہ آپ کے لیے لڑ مرنے کو تیار ہیں۔

دل کو مار کر برے کو گلے لگانا پڑتا ہے اور کبھی کبھی شریف سے کنی کترانا پڑتی ہے۔

لیکن اگر کسی نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی الیکشن نہیں لڑا تو وہ کبھی اس مایوسی کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو ان امیدواروں کو ہوئی ہوگی جنھیں پتہ چلا کہ عدالتی حکم کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو چکے ہیں۔اس مایوسی کا کوئی دوسرا اندازہ نہیں لگا سکتا۔

Image caption بلکہ سیاسی جماعتیں کروڑوں روپے کا فنڈ بھی اکھٹا کر گئیں ہیں

اگرچہ بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین اس مایوسی کو سمجھنے سے یا تو قاصر ہیں یا جان بوجھ کر انجان بنے ہیں لیکن ایک مختصر بات یہ ہے کہ جن پارٹیوں نے ان انتخابات کے راستے میں روڑے اٹکائے خود ان کے حمایتی ان سے بدظن ہوئے ہیں۔

بلدیاتی انتخابات ملتوی ہونے کے بعد ملتان کی یونین کونسل 36 سے مسلم لیگ نون کے حمایت سے چیئرمین کے امیدوار رانا سجاد سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تو وہ اپنی ہی پارٹی کے خلاف پھٹ پڑے۔

انھوں نے کہا کہ اگر 11 مئی کے عام انتخابات کو ملتوی کرنے کی کوئی ذرا سی بھی بات کر دیتا تو مسلم لیگ نون کی قیادت پر قیامت گزر جاتی انھوں نے بیانات دے دے کر نگراں حکومت کی ایسی تیسی کر دینی تھی لیکن اب وہ خاموش ہیں۔

انھیں کیا ہوگیا ہے؟ اس پر انھوں نے کہا کہ’پارٹی کے لاکھوں کارکنوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں ہے وہ کس سے فریاد کریں؟‘

یہ کوئی جنرل الیکشن نہیں تھے جس میں چند سو یا چند ہزار امیدوار میدان میں اترتے۔

یہ بلدیاتی الیکشن کی تیاریاں تھیں جس میں چند ہزار نہیں بلکہ لاکھوں افراد براہ راست امیدوار ہوتے ہیں، ہر ایک کا اپنا گھرانہ دوست احباب اور کارکن متحرک ہوتے ہیں اور پھر وہ انتخابی محاذ آرائی شروع ہوتی ہے جو گھر گلی محلے ٹاؤن اور ضلع سے ہوتے ہوئے مرکز تک پہنچ ہی جاتی ہے۔

سینیئر صحافی خواجہ فرخ سعید کہتے ہیں کہ یہ تحریک انصاف کے لیے بڑا اچھا موقع تھا کہ وہ بلدیاتی الیکشن کے ذریعے ثابت کرتے کہ 11 مئی کے انتخابات کے بعد عوامی مقبولیت کا رخ تبدیل ہو چکا ہے لیکن تحریک انصاف دوسری پارٹیوں کے ساتھ خود ہی عدالت چلی گئی اور عدالتی فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف بلدیاتی انتخابات مؤخر ہوئے بلکہ اب ان کے جلد ہونے کی کوئی امید بھی نہیں رہی۔

ان کے بقول اس کا فائدہ براہ راست مسلم لیگ نون کو ہوا جس پر انتخابات نہ کروانے کا الزام بھی نہیں لگا اور انتخابات ملتوی بھی ہوگئے۔

فائدہ صرف یہی نہیں پہنچا بلکہ سیاسی جماعتیں کروڑوں روپے کا فنڈ بھی اکھٹا کر گئیں ہیں۔

یہ رقوم مسلم لیگ نون ،تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی سیاسی جماعتوں نے انتخابی ٹکٹ جاری کرنے کے عوض امیدواروں سے وصول کیے ہیں۔یونین کونسل کے چیئر مین اور نائب چیئرمین کے ہر امیدوار نے فی کس 10 ہزار روپے اورکونسلر نے دو ہزار روپے جمع کرائے تھے۔امیدوار لاکھوں میں ہوں تو فنڈ کروڑوں میں تو بنتے ہیں۔

کوئی تجزیہ نگار کہتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سندھ میں شہری آبادی ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ ہے اور کوئی کہتا ہے کہ مسلم لیگ نون کو حالیہ مقبولیت کا پول کھل جانے کا خوف ہے۔

بلدیات کے ترمیمی قوانین میں زیر زبر پیش کی بدنیت غلطیوں کی بات بھی کی جاتی ہے اور حلقہ بندیوں میں دھاندلیوں کا واویلا مچایا جاتا ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کی تاریخ کہتی ہے کہ پاکستان میں عمومی طور پر جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے حق میں نہیں رہیں۔

اسی بارے میں