وکلا کی پکار:مشرف کو علاج کے لیے امریکہ جانےدیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خصوصی عدالت انھیں تین بار عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دے چکی ہے

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی ہے کہ ان کے مؤکل کو علاج کے لیے فوری طور پر امریکہ منتقل کیا جائے۔

غداری کے مقدمے میں سابق صدر کے وکیل انور منصور نے جمعرات کو دورانِ سماعت عدالت میں ایک میڈیکل رپورٹ پیش کی جس میں یہ درخواست تھی کہ پرویز مشرف کا علاج کی غرض سے امریکہ منتقل کیا جانا ضروری ہے۔

ادھر پرویز مشرف کے دوسرے وکیل احمد رضا قصوری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کو علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

طبی رپورٹ امریکی ریاست ٹیکساس کے ’پیرس ریجنل میڈیکل سینٹر پریس‘ کے ماہرِ امراضِ قلب اور پرویز مشرف کے قریبی دوست ارجمند ہاشمی نے تحریر کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پرویز مشرف کے دل کا حالیہ سی ٹی سکین بہت تشویش ناک ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دل کی متعدد شریانوں میں کیلشیئم کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ کئی شریانیں متاثر ہیں جب کہ دائیں شریان میں رکاوٹ ہے۔

’ان نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ دل کی بیماری میں مبتلا ہیں، جس کا علاج نہ کیا گیا تو انھیں دل کا دورہ پڑ سکتا ہے اور اس لیے انھیں فوری طور پر ہمارے طبی مرکز منتقل کیا جائے۔‘

ہمارے نامہ نگار کے مطابق عدالت نے اس رپورٹ کے بارے میں کوئی ریماکس نہیں دیے اور نہ یہ پوچھا کہ یہ رپورٹ کتنی مصدقہ ہے۔ یہ تاحال واضح نہیں کہ پرویز مشرف کے ذاتی معالج کو یہ رپورٹ کس نے بھیجی ہے اور نہ یہ کہ آیا یہ طبی رپورٹ قابل سماعت ہے بھی یا نہیں۔

نامہ نگار کے مطابق طبی رپورٹ کے ساتھ پرویز مشرف کے سکیورٹی خدشات کے سبب پیش نہ ہونے سے متعلق ایک رپورٹ لف تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چوہدری اسلم بلٹ پروف گاڑی اور سکیورٹی ہونے کے باوجود بم حملے میں مارے گئے۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت میں غداری کے مقدمے کی سماعت کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ججز نظر بندی کیس اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں خصوصی عدالت میں پیشی کے خلاف درخواست کی سماعتیں ہوئیں۔

سابق صدر غداری کے مقدمے میں آج بھی پیش نہیں ہوئے۔ عدالت انھیں تین بار عدالت میں حاضری سے استثنیٰ دے چکی ہے۔

عدالت میں پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے کے بارے میں خصوصی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر کی علالت کی تشخیص کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا۔

فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ یہ خصوصی بورڈ اے ایف آئی سی کے ڈاکٹروں پر مشتمل ہو جو اپنی رپورٹ 24 جنوری کو عدالت میں پیش کرے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ رپورٹ ملنے کے بعد چیف پراسیکیوٹر کی جانب سے مشرف کی عدم پیشی کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا۔

پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا کہ سابق صدر عدالت میں پیش ہونے کے عدالتی احکامات کی بار بار خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مشرف کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر عدالت حکم جاری کرے۔

سابق صدر کے وکیل انور منصور نے عدالت سے کہا کہ خصوصی عدالت کے سامنے دو دیگر درخواستیں پڑی ہیں جن پر عدالت پہلے فیصلہ دے۔

انھوں نے کہا کہ ایک درخواست میں خصوصی عدالت کے بینچ کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا ہے جبکہ دوسری درخواست میں عدالت کے دائرہ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔

انور منصور نے خصوصی عدالت سے استدعا کی کہ سماعت کو 20 جنوری تک ملتوی کیا جائے کیونکہ سپریم کورٹ میں عدالت عظمیٰ کے 31 جولائی کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں تین نومبر کے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔

تاہم خصوصی عدالت نے انور منصور کی اس استدعا کو خارج کر دیا۔

یاد رہے کہ غداری کے مقدمے میں پیشی کے لیے سفر کے دوران علیل ہونے والے پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف راولپنڈی میں فوج کے ادارہ برائے امراض قلب میں زیرِ علاج ہیں۔

اسی بارے میں