’پاکستانی بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں‘

پاکستان سکول تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپورٹ کے مطابق پاسکتان کے شہری علاقوں میں سرکاری سکولوں کے مقابلے میں نجی سکول زیادہ ہیں

پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے گروپ کی جانب سے کیے جانے والے ایک نئے سروے کے مطابق پاکستانی بچوں کی اکثریت معیاری تعلیم سے محروم ہے۔

سروے میں کہا گیا ہے کہ پانچویں جماعت کے تقریباً 50 فیصد بچے دوسری جماعت کی سطح کی اردو پشتو اور سندھی کہانیاں نہیں پڑھ سکتے جبکہ چھ سے سولہ برس کے 21 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔

تعلیم سے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کے گروپ نے اثر کے نام سے چھ سے سولہ سال کے بچوں کے تعلیمی معیار، سکولوں میں سہولیات اور داخلے سے متعلق اعداد و شمار جمع کر کے اپنی رپورٹ اسلام آباد کے سکیریٹریٹ میں ایک تقریب میں پیش کی۔

شہری اور دیہی تفریق

یہ اثر کی پانچویں سالانہ رپورٹ ہے۔ اس سروے میں پاکستان بھر سے تقریبا ڈھائی لاکھ بچوں نے شرکت کی، جبکہ اعداد و شمار پاکستان کے 138 دیہی اضلاع اور 13 شہری اضلاع میں 10 ہزار رضاکاروں نے جمع کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان معیارِ تعلیم اور سکول تک رسائی میں واضح فرق ہے۔ ملک کے شہری علاقوں کے چھ سے سولہ سال تک کی عمر کے 8 فیصد بچے سکول نہیں جاتے جبکہ دیہی علاقوں کے 21 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں سرکاری سکولوں کے مقابلے میں نجی سکول زیادہ ہیں۔ شہری علاقوں میں 59 فیصد نجی سکول ہیں، جبکہ دیہی علاقوں میں 27 فیصد نجی سکول ہیں۔ رپورٹ کے مطابق نجی سکولوں کا معیارِ تعلیم بہتر ہے۔

تعلیم یافتہ مائیں

دیہی علاقوں اور شہری علاقوں میں ایک اور بڑا فرق ہے۔ اثر کے 2013 کے سروے کے مطابق شہری علاقوں میں 60 فیصد بچوں کی ماوؤں نے بنیادی تعلیم حاصل کی ہوئی ہے جبکہ دیہی علاقوں میں صرف 24 فیصد ماوؤں نے پانچویں جماعت تک پڑھا ہے۔

خیال رہے کہ سرکاری عدادوشمار کے مطابق، پاکستان کے دو تہائی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ تاہم، حکومتِ پاکستان کی پیش گوئی ہے کہ شہری آبادی کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مدِ نظر 2030 تک پاکستان کی آدھی آبادی شہری ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کے دیہی علاقوں کے 21 فیصد بچے تعلیم سے محروم ہیں

تعلیم سے متعلق رپورٹ کی تقریب رونمائی میں مہمانِ خصوصی اور منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اٹھارھویں ترمیم کی وجہ سے تعلیم کو نقصان پہنچا ہے۔

’جب سنہ 2010 میں اٹھارویں ترمیم آئی تو تعلیم کو مرکزی حکومت کی دسترس سے ہٹا دیا گیا، جس پر میرا اختلافی نوٹ موجود ہے۔ ہمیں صوبوں کی مشاورت کے ساتھ قومی لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ملک میں طبقاتی نظامِ تعلیم کو ختم کریں۔‘

انہوں نے نصاب کے یکساں معیار کے لیے اگلے ہفتے کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا۔

’ہم اگلے ہفتے صوبائی وزرا تعلیم اور سکریٹری کو دعوت دے رہے ہیں تاکہ ہم قومی سطح پر ایک مربوط نظامِ تعلیم کے لیے ایسا نصاب ترتیب دے سکیں جو بچوں اور بچیوں کی تخلیقی صلاحیتیوں کو ابھار سکے۔‘

احسن اقبال نے صحت، تعلیم اور دیگر ترقیاتی شعبوں میں بہتری کے لیے ایک اور تجویز پیش کی، جس میں حلقے کی سطح پر اعدادوشمار جمع کیے جائیں گے۔

’پاکستان کے ترقیاتی اعداد و شمار کو قومی اور صوبائی اسمبلی کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے تاکہ ہمارے عوامی نمائندوں کے درمیان بھی ترقی کے میدان میں مقابلہ پیدا ہو۔‘

تقریب میں موجود ماہرین کا کہنا تھا کہ اثر کے سروے نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ تعلیم عدم مساوات کا شکار ہے، چاہے صوبوں، شہری اور دیہی علاقوں، یا لڑکے اور لڑکیوں کے حوالے سے دیکھا جائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں تفریق و تقسیم بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں