پشاور دنیا میں پولیو وائرس کا گڑھ ہے: عالمی ادارہ صحت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پچھلے سال افغانستان میں تیرہ پولیو کے کیسز سامنے آئے جن میں سے بارہ کیسز میں وہ پولیو وائرس ہے جو پشاور میں پایا جاتا ہے

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔

پاکستان میں 90 فیصد پولیو وائرس جنیاتی طور پر پشاور میں موجود وائرس سے جڑا ہوا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں سنہ 2013 میں پولیو کیسز کی تعداد سنہ 2012 کے مقابلے میں بڑھی ہے۔

عالمی اداراۂ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر الائس ڈرے نے بی بی سی کو بتایا ’ہمیں شمالی و جنوبی وزیرستان میں پابندی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم پشاور پولیو وائرس کا ذخیرہ ہے جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

عالمی اداراۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیو وائرس کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری کے مطابق پچھلے سال پاکستان میں 91 میں سے 83 پولیو کیسز کا تعلق جنیاتی طور پر پشاور میں پائے جانے والے پولیو وائرس سے ہے۔

ببیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال افغانستان میں 13 پولیو کے کیسز سامنے آئے جن میں سے 12 کیسز میں وہ پولیو وائرس ہے جو پشاور میں پایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال شام اور مصر میں پائے جانے والے پولیو کے وائرس کا جنیاتی تعلق صوبے سندھ سے تھا۔ چین میں بھی پولیو وائرس کی ایک قسم کا ذریعہ پاکستان ہی تھا۔

ڈاکٹر الائس ڈرے کا کہنا ہے کہ ان تین ممالک میں جہاں وائرس عام ہے، یعنی نائجیریا، افغانستان اور پاکستان ان میں سے 80 فیصد کیس پاکستان سے ہیں۔

سنہ 2013 میں پاکستان میں نہ صرف گذشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر پولیو کیس کی تعداد میں تقریباً 35 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا بلکہ پولیو مہم میں حصہ لینے والی ٹیموں پر پہلی مرتبہ سب سے زیادہ حملے ہوئے جس سے اس بیماری کے خلاف مہم میں ایک نیا پہلو سامنے آیا۔

ڈاکٹر الائس ڈرے نے کہا ’ پولیو وائرس کو کچھ علاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے، خاص کر قبائلی علاقوں میں جہاں بچوں تک رسائی نہیں ہے۔ کئی سال پہلے تک تو پولیو وائرس ملک بھر میں پھیلا ہوا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ رواس سال پشاور میں اچھے معیار کی اور مسلسل مہم سے بہتری آ سکتی ہے جب کہ کراچی کے بعض علاقوں میں بھی کچھ حد تک پشاور سے ملتے جلتے حالات ہیں کیونکہ وہاں بھی والدین قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں اور سکیورٹی بھی ایک مسئلہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی دسمبر سنہ 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پولیو کے خاتمے کو کئی خطرات لاحق ہیں جن میں شمالی وزیرستان میں طالبان کی جانب سے انسدادِ پولیو مہم پر پابندی، خیبر ایجسنی میں مہم کے اہل کاروں پر حملے اور فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔

پاکستان میں اس سال اب تک پولیو کے چھ نئے کیس سامنے آئے ہیں جن میں چار شمالی وزیرستان سے، ایک خیبر ایجسنی سے اور ایک کراچی میں رونما ہوا ہے۔

فاٹا سیکریٹریٹ پشاور کے ایک اعلیٰ اہل کار کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 میں پولیو کا وائرس زیادہ تر قبائلی علاقوں میں پوری طرح متحرک رہا۔

انھوں نے بتایا ’امن وامان کی بگڑتی صورت حال اور پولیو کی ٹیموں کو کام کی اجازت نہ ملنے سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقریباً ڈیڑھ سال سے پولیو سے بچاؤ کی مہم نہیں چلائی گئی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں زیادہ بچے اس موذی مرض کا شکار ہوئے۔‘

خیال رہے کہ اگلے ہفتے جینیوا میں عالمی اداراۂ صحت کے ایگزیکیٹیو بورڈ کا اجلاس ہو گا جس میں سنہ 2013 میں پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں کی پیش رفت بھی زیرِ بحث آئے گی۔

ڈاکٹر الائس ڈرے کا کہنا ہے ’اس حوالے سے پاکستان میں صورتِ حال اچھی نہیں رہی خاص کر ان علاقوں میں جہاں بچوں تک رسائی نہیں ہے۔‘

گذشتہ ایک دہائی سے پولیو کے خاتمے کے لیے دنیا بھر میں ہر سال ایک ارب ڈالر خرچ ہوتے رہے ہیں اور اس مہم سے منسلک غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس مہم کی لاگت اتنی ہے کہ اسے زیادہ دیر تک چلایا نہیں جا سکتا۔

اسی بارے میں