بلوچستان لاپتہ افراد لانگ مارچ پنجاب میں داخل

Image caption روجھان تحصیل کے علاقے شاہوالی میں دوست محمد مزاری نے مارچ کا استقبال کی

بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کا پیدل لانگ مارچ، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں داخل ہوگیا ہے، جس کا روجھان مزاری میں سیاسی، جماعتوں اور عام لوگوں نے استقبال کیا ہے۔

سندھ اور پنجاب کی سرحد پر جئے سندھ قومی محاذ کے کارکنوں نے اس لانگ مارچ کے شرکا کو الوداع کیا، وائس فار مسنگ پرسنز کے نائب چیئرمین اور مارچ کے روح رواں عبدالقدیر بلوچ نے اس موقعے پر سندھ کے لوگوں اور قوم پرست جماعتوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی پر شکریہ ادا کیا۔

کراچی سے چھتیس روز کا پیدل سفر کر کے یہ مارچ سنیچر کو پنجاب میں داخل ہوا ہے۔ جس سڑک پر وہ سفر کر رہے ہیں اس کے دونوں طرف ویرانی ہے اور کہیں کسی درخت کا سایہ اور ہوٹل بھی دستیاب نہیں۔ شرکا سڑک کے کنارے کچھ گھڑی آرام کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں، قافلے کے ساتھ صرف ایدھی ایمبولینس موجود ہے۔

روجھان تحصیل کے علاقے شاہوالی میں سابق وزیر اعظم اور مزاری قبیلے کے سردار بلخ شیر مزاری کے پوتے دوست محمد مزاری نے مارچ کا استقبال کیا اور شرکا کے ساتھ تھوڑا سفر بھی کیا۔ انہوں نے شرکا کو کھانے پینے اور اوڑھنے کی کچھ اشیا دینا چاہیں لیکن مارچ کے سربراہ ماما قدیر نے انہیں قبول کرنے سے انکار کیا۔

ماما قدیر بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے انہیں کہا کہ آپ حکومت میں رہے ہو اور انہیں پارلیمانی سیاست کرنے والی کسی جماعت سے کوئی مدد نہیں چاہیے یہ ان کا اصولی فیصلہ ہے۔

انہوں نے بتایا سردار شیر باز مزاری کا بھی ان کے پاس پیغام آیا تھا کہ مزاری علاقے میں وہ ان کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کرنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے انہیں بھی انکار کیا ہے۔

پنجاب داخل ہونے سے پہلے ماما قدیر نہ یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ انہیں پنجاب کی حدود میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ پنجاب کی سرحد عبور کر رہے تھے تو سندھی قوم پرست اور عام شہری بڑی تعداد میں موجود تھے اس لیے وہاں موجود رینجرز اور پولیس انہیں روک نہیں سکی۔

Image caption جس سڑک پر وہ سفر کر رہے ہیں اس کے دونوں طرف ویرانی ہے اور کہیں کسی درخت کا سایہ اور ہوٹل بھی دستیاب نہیں

یاد رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے تاحال ایسے کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا جس میں اس لانگ مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے کہا گیا ہو۔ ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان تک تو وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ یہاں بلوچ آبادی ہے لیکن اس سے آگے ہوسکتا ہے کہ انہیں مخالف یا مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے لیکن وہ پرعزم ہیں کہ ہر حال میں اسلام آباد پہنچے گئے۔

واضح رہے کہ سنیچر کو ہی سندھ کے سرحدی شہر کشمور سے بے گھر بگٹی خاندان والے ڈیرہ بگٹی جانے کے لیے اکھٹا ہو رہے ہیں جو نواب اکبر بگٹی کے پوتے شاہزین کی سربراہی میں سوئی سے ہوتے ہوئے ڈیرا بگٹی پہنچیں گے۔

بلوچ بزرگ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد ڈیرا بگٹی کے رہائشی یہ لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ شاہزین بگٹی کا کہنا ہے کہ وہ وفاقی اور بلوچستان حکومت کی حمایت اور معاونت سے اپنے قبیلے کے لوگوں کو واپس لے کر جا رہے ہیں۔ انہیں دونوں حکومتوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ لوگوں کو صحت، تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اسی بارے میں