امداد کو شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے پر پاکستان کی مایوسی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس بل کی امریکی صدر نے توثیق کر کے قانون کی شکل دے دی ہے

پاکستان نے امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دی جانے والی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کی روح کے منافی ہے۔

امریکی کانگریس نے حال ہی میں امریکی اداروں کو سنہ دو ہزار چودہ میں مختص ہونے والے بجٹ کی منظوری دی ہے جس کی صدر اوباما نے سترہ جنوری کو توثیق کرکے قانونی شکل دے دی ہے۔

اس قانون کے تحت امریکی وزارتِ دفاع اور امریکی وزارتِ خارجہ بشمول پاکستان کے بیرونی ممالک کو دی جانے والی امداد کا تعین کریں گی۔

اس قانون کی ایک شق میں تجویز کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کو قید میں رکھنے کی وجہ سے روک لیا جائے۔

دفترخارجہ نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پاکستانی شہری ہیں اور پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں قید ہیں۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر انصاف حاصل کرنے کے راستے کھلے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے پریس ریلیز میں یہ بھی باور کرایا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی حرکات کی وجہ سے پاکستان میں پولیو مہم کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ زیر سماعت ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ باہمی عزت اور باہمی مفاد کی بنیاد پر قریبی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش میں ہیں۔ دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ تعلقات بہتر بنانے کا سلسلہ مثبت انداز میں آگے بڑھایا جاتا رہے گا۔

یاد رہے کہ امریکی کانگریس کے رپبلكن اور ڈیموكریٹ ارکان کی رضامندی سے تیار کیےگئے بجٹ کے مسودےکو 16 جنوری کو امریکی کانگریس نے میں پیش کیا گیا تھا۔

مسودے میں تجویز دی گئی تھی کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے دی جانے والی رقم میں سے تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر اس وقت تک روک لیے جائیں جب تک کہ وہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو جیل سے رہا نہ کر دے۔

اس مسودے میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پر اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کرنے سے متعلق جو بھی الزامات ہیں وہ واپس لیے جائیں۔

امریکی بجٹ کے مسودے میں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والے اخراجات کی ادائیگی کی مدت کو ایک سال کے لیے بڑھانے کا بھی ذکر ہے تاہم پاکستان کو واپس کی جانے والي رقم جاری کرنے کے لیے کچھ اور بھی شرائط رکھی گئی ہیں۔

ان شرائط کے تحت امریکی وزرائے خارجہ و دفاع کو کانگریس کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ پاکستان القاعدہ، تحريكِ طالبان پاکستان، حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوری کے خلاف کارروائی میں کیا مدد کر رہا ہے۔

انھیں کانگریس کو یہ یقین بھی دلانا ہوگا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے امریکی یا افغان فوج پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے کارگر قدم اٹھا رہا ہے۔

اسی بارے میں