سرفراز شاہ کیس: صلح نامہ مسترد، رینجرز کی سزائیں برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption آٹھ جون 2011 کو بےنظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہل کار کی فائرنگ میں میٹرک کا طالب علم سرفراز شاہ ہلاک ہوگیا تھا

سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاہ کے قتل میں ملوث رینجرز اہل کاروں کی موت اور عمر قید کی سزائیں برقرار رکھنے کا حکم سنایا ہے۔

رینجرز اہل کاروں پر فردِ جرم عائد

’لوڈ شیڈنگ سے تنگ آ کر پارک گیا تھا‘

سندھ ہائی کورٹ میں منگل کو سرفراز شاہ کے بھائیوں اور ملزمان کے وکلا نےفریقین میں طے پانے والا صلح نامہ پیش کیا اور ملزمان کی سزائیں ختم کرنے کی اپیل کی۔

عدالت نے ملزمان کی جانب سے صلح نامہ اور اپیل کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے تمام ملزمان کی سزائیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس سے پہلے کراچی کی ہی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے رینجرز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاہ کے قتل میں ملوث ایک ملزم کو سزائے موت جبکہ دیگر چھ ملزمان کو عمر قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سرفراز شاہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے رینجرز کے اہل کار شاہد ظفر کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

عدالت نے سرفراز شاہ کیس کے دیگر چھ ملزمان کو عمر قید اور دو دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ 29 جون کو ان ملزان پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ فردِ جرم میں کہا گیا تھا کہ 11 جون 2011 کو مقتول سرفراز شاہ کو شاہد ظفر نے فائر کر کے قتل کیا جو دہشت گردی کا عمل تھا، اور اس سے عوام میں خوف کا تاثر پیدا ہوا ہے۔

تاہم تمام ملزمان نے الزام تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ملزمان کے وکیل نعمت اللہ رندھاوا نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔

آٹھ جون 2011 کو بےنظیر بھٹو پارک میں رینجرز اہل کار کی فائرنگ میں میٹرک کا طالب علم سرفراز شاہ ہلاک ہوگیا تھا۔ ٹی وی چینلوں پر واقعے کی فوٹج نشر ہونے کے بعد چھ اہل کاروں سمیت سات ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے بھی اس مقدمے کا ازخود نوٹس لیا تھا جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا شدید رد عمل سامنے آیا تھا ۔

اسی بارے میں