مستونگ ہلاکتیں: لواحقین آج لاشوں کے ساتھ دھرنہ دیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ رواں ماہ بلوچستان میں ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں شیعہ زائرین کی بس کے قریب دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے آج لاشوں کے ساتھ دھرنہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

مجلس وحدت الملسمین کے رہنما علامہ ہاشم موسوی نے بی بی سی بتایا کہ دھرنہ بدھ کی صبح شہدا چوک پر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کل دوپہر کو پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔

اس سے پہلے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں شیعہ زائرین کی بس کے قریب دھماکے سے کم از کم 23 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے تھے۔

مستونگ کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ منگل کی شام پیش آیا۔

مستونگ کے ڈی پی او محمد عابد نے بی بی سی کو بتایا کہ بم ڈسپول سکواڈ نے اس حملے میں 100 کلو بارودی مواد استعمال کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس قافلے کی سکیورٹی پر چار گاڑیاں مامور تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خودکش بمبار نے اپنی گاڑی بس سے ٹکرا دی۔

اس سے قبل اسسٹنٹ کمشنر مستونگ شفقت انور شاہوانی کے مطابق شیعہ زائرین کی دو بسیں ایران سے واپس آ رہی تھیں کہ درنگڑ کے علاقے میں ان کے راستے پر دھماکہ ہوا اور ایک بس اس کی زد میں آ گئی۔

ان کے مطابق دھماکے کے بعد بس میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔

ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

مستونگ تھانے کے اہلکار عبدالفاتح نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا۔

دھماکے کے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر امدادی کارکن اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے اور طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ رواں ماہ بلوچستان میں ایران سے آنے والے زائرین کی بس پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے قبل یکم جنوری کو کوئٹہ شہر کے مغربی بائی پاس پر اختر آباد کے علاقے میں ایسی ہی ایک بس پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں حملہ آور سمیت دو افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے بھی کوئٹہ تفتان قومی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے میں ایران میں زیارتوں کے لیے کوئٹہ سے جانے والے یا ایرن سے واپس آنے والے زائرین پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔

ان حملوں کے بعد ایسی بسوں کو لیویز اور ایف سی کی گاڑیوں کے ساتھ قافلے کی صورت میں ایرانی سرحد تک لایا اور لے جایا جاتا ہے اور درنگڑ میں ہی اکتوبر 2013 میں ایسے ہی ایک حملے میں ایف سی کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں